دولت اسلامیہ کے پاکستان میں وجود سے انکار نہیں: نثار

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کالعدم تنظیم دولت اسلامیہ کے وجود سے انکار نہیں ہے مگر اس تنظیم کی قیادت پاکستان میں موجود نہیں ہے۔
منگل کے روز ٹیکسلا میں ایک تقریب سے خطاب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس شدت پسند تنظیم کی تنظیمی قیادت مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں ہے جہاں پر یہ تنظیم اپنی نقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔
چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ’پاکستان میں کام کرنے والی بہت سی کالعدم شدت پسند تنظیموں نے دولت اسلامیہ کی فرنچائز کھول رکھی ہیں جو ملک میں ہونے والے کسی بھی دہشت گرد واقعہ کی فوری ذمہ داری قبول کرلیتی ہیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ کراچی اور صوبہ پنجاب کے شہروں ڈسکہ اور سیالکوٹ سے حال ہی میں گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق دولت اسلامیہ سے نہیں بلکہ مختلف کالعدم تنظیموں سے تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ کی قیادت مسلمانوں کے جس فرقے کی نمائندگی کر رہی ہے اس کا وجود پاکستان میں نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں 45 ایسی کالعدم تنظیمیں ہیں جو کبھی ختم ہوجاتی ہیں اور پھر کچھ عرصے کے بعد دوبارہ سر اُٹھا لیتی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کالعدم تنظیموں کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موثر کارروائی کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ان کالعدم تنظیموں کا نام لینا اور اُنھیں میڈیا پر کوریج دینا ان تنظیموں کو اہمیت دینے کے مترادف ہے۔
بھارتی شہر پھٹان کوٹ ائربیس پر حملے سے متعلق چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم اپنا کام مکمل کررہی ہے اور جلد ہی پاکستانی وزارت خارجہ بھارتی حکومت سے اس تحقیقاتی ٹیم کو جائے حادثہ تک رسائی کے بارے میں درخواست دے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے سوال کے جواب پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ آرمی چیف کا ذاتی فیصلہ ہے اور اس بارے میں کچھ بات کرنا قبل از وقت ہے۔







