لاہور کی خواتین شام جا کر دولتِ اسلامیہ میں شامل

- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے درالحکومت لاہور میں اطلاعات کے مطابق تین خواتین ایک درجن سے زیادہ بچوں کو لے کر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے شام چلی گئی ہیں۔
ان افراد کے اغوا کی ایف آئی آر چند ماہ قبل ٹاؤن شپ، وحدت کالونی اور ہنجروال کے تھانوں میں درج کروائی گئی تھیں۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ معلومات ملی ہیں کہ یہ لوگ کراچی اور گوادر کے راستے ایران سے شام گئے ہیں تاکہ دولتِ اسلامیہ میں شامل ہو سکیں۔
لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے بی بی سی کو پہلے بتایا تھا کہ ’پولیس کے پاس تو ان کے اغوا کی ایف آئی آر درج تھی لیکن اب ان میں سے کچھ خواتین کا رابطہ اپنے گھر والوں سے ہوا ہے جنھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ اطلاع دی ہے کہ وہ اغوا نہیں ہوئیں بلکہ اپنی مرضی سے شام گئی ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’محکمۂ انسداد دہشت گردی کی مزید تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ خواتین کراچی اور گوادر کے راستے ایران سے شام گئیں تاکہ داعش کے لیے کام کر سکیں۔‘
تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ پولیس اس حوالے سے مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کو موصول ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق تھانہ ہنجروال میں اپنی پوتی کی اغوا سے متعلق ستمبر میں دی گئی درخواست میں فاطمہ بی بی نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ ان کی ایک بیٹی ارشاد بی بی اپنے دو بچوں کے ساتھ چند ماہ پہلے شام منتقل ہو چکی ہیں۔
مبینہ طور پر شام جانے والی خواتین میں ٹاؤن شپ کی بشریٰ چیمہ عرف حلیمہ کے علاوہ فاطمہ بی بی کی ہمسائی فرحانہ بھی شامل ہیں جو ستمبر میں اپنے پانچ بچوں کے ساتھ گھر سے غائب ہوئیں۔
فرحانہ کے بھائی اور مقامی صحافی عمران خان نے پولیس کو ان کی گمشدگی کی اطلاع بھی دی تھی۔
عمران کا کہنا ہے کہ فرحانہ کے شوہر اور محکمہ ریونیو کے ملازم مہر حامد شدت پسند تنظیموں سے ہمددردی کے جذبات رکھتے تھے اور انھیں تفتیش کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں بھی لیا تھا اور وہ کئی ماہ تک لاپتہ رہے۔
عمران کا کہنا تھا کہ اس دوران فرحانہ میں شدت پسندی کا رجحان نمایاں ہوا اور وہ ستمبر میں اپنے پانچ بچوں سمیت گھر سے غائب ہوگئیں۔
تاہم عمران کا دعوی ہے کہ فرحانہ نے پاکستان کی سرحد عبور نہیں کی تھی بلکہ ستمبر میں ہی ایف سی نے انھیں ایران کی سرحد کے قریب جیوانی سے گرفتار کرلیا تھا۔
عمران کا کہنا ہے کہ اس کے بعد بھی ان کی انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی بہن سے بات ہوئی ہے تاہم وہ اس وقت کہاں ہیں۔ اس حوالے سے کو کچھ نہیں جانتے۔
ان افراد کے شام جانے کی تصدیق ایسے موقعے پر ہوئی ہے جب ایک روز قبل ہی انسداد دہشت گردی فورس نے سیالکوٹ کے قریبی علاقے ڈسکہ میں آٹھ افراد پر مشتمل ایک ایسا نیٹ ورک توڑنے کا دعویٰ کیا تھا جو پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کی سرگرمیوں کو منظم کرنے اور ان کے لیے بھرتیاں کرنے کا کام کر رہا تھا۔
پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے پنجاب میں اس شدت پسند تنظیم کی موجودگی کی سرکاری سطح پر تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ڈسکہ میں موجود یہ آٹھ افراد دولتِ اسلامیہ کے لیے کام کرنے والے ایک شخص امیر معاویہ سے موبائل سروس وائبر کے ذریعے رابطے میں تھے۔
ان کے مطابق یہ افراد شام جانے کی تیاریوں میں تھے کہ حکومتی ایجنسیوں نے ان کا پتہ لگا کر ان کے خلاف کارروائی کی۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک تربیتی کیمپ بھی بنا رکھا تھا جہاں یہ لوگوں کی برین واشنگ کر رہے تھے۔
پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان ماضی میں ملک میں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کی تردید کرتے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ فی الحال حکام کے پاس اس حوالے سے کوئی حتمی معلومات موجود نہیں کہ صوبہ پنجاب میں دولتِ اسلامیہ کا نیٹ ورک کتنا وسیع ہے اور اس میں شمولیت کے لیے پاکستان سے باہر جانے والے افراد کی اصل تعداد کیا ہے۔







