’دولتِ اسلامیہ‘ کی ریڈیو نشریات پاکستانی علاقوں میں

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ زیاہ تر نشریات پشتو زبان میں پیش کی جاتی ہیں
،تصویر کا کیپشنمقامی افراد کا کہنا ہے کہ زیاہ تر نشریات پشتو زبان میں پیش کی جاتی ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبے ننگرہار میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی طرف سے تقریباً دو ہفتے قبل شروع کی گئی ایف ایم ریڈیو کی نشریات سرحد کے اس پار اب قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے شہروں میں بھی سنی جا رہی ہیں۔

<link type="page"><caption> افغانستان میں دولت اسلامیہ کے نئے ریڈیو سٹیشن کا آغاز</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/12/151217_isis_afghanistan_radio_station_ak.shtml" platform="highweb"/></link>

مہمند ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ریڈیو خلافت کے نام سے موسوم اس غیر قانونی ریڈیو سٹیشن کی نشریات پوری ایجنسی میں صاف سنی جا رہی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نشریات کا آغا شام کو ہوتا ہے اور یہ ایک سے دو گھنٹے تک جاری رہتی ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ زیاہ تر نشریات پشتو زبان میں پیش کی جاتی ہیں جس میں جنگی ترانے، جہادی گیت اور تقاریر شامل ہوتی ہیں جبکہ بعض مذہبی ترانے عربی زبان میں بھی نشر کیے جاتے ہیں۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ مہمند ایجنسی اور ضلع چارسدہ کے بعض علاقوں میں بھی خلافت ریڈیو کے پیغامات سنے جارہے ہیں جس میں لوگوں کو شدت پسندی کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

تاہم ابھی تک اس بات کی مصدقہ اطلاعات نہیں ملی ہیں کہ یہ ریڈیو سٹیشن کہاں قائم کیا گیا ہے۔ کچھ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ شاید یہ کسی دور دراز پاکستانی قبائلی علاقے میں نصب ہے جہاں سکیورٹی فورسز کی عمل داری نہیں۔ لیکن اس ضمن میں مصدقہ اطلاعات نہیں مل سکیں۔

ادھر سرحد پار افغانستان سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ خلافت ریڈیو کی نشریات تقریباً دو ہفتے قبل افغان صوبے ننگرہار میں سامنے آنے شروع ہوئی۔ افغان صحافیوں کا کہنا ہے کہ پہلے اس چینل کی نشریات صرف صوبے ننگرہار تک محدود رہیں لیکن رفتہ رفتہ اس کا دائرہ کنڑ کے علاقوں تک بھی پھیلا دیا گیا۔

اطلاعات ہیں کہ مہمند ایجنسی اور ضلع چارسدہ کے بعض علاقوں میں بھی خلافت ریڈیو کے پیغامات سنے جا رہے ہیں (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناطلاعات ہیں کہ مہمند ایجنسی اور ضلع چارسدہ کے بعض علاقوں میں بھی خلافت ریڈیو کے پیغامات سنے جا رہے ہیں (فائل فوٹو)

افغان صحافیوں کے بقول بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دولت اسلامیہ نے نوجوانوں کو اپنے تحریک میں شامل کرنے کے لیے ریڈیو سروس کا آغاز کیا ہے کیونکہ جس قسم کے پیغامات نشر کیے جا رہے ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو مِخاطب کیا جا رہا ہے۔

بعض افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ خلافت ریڈیو ایک موبائل گاڑی پر نصب کیا گیا ہے جسے کسی بھی وقت ایک جگہ سے دوسری جگہ باآسانی منتقل کیا جا سکتا ہے۔

اس سےسلسلے میں فوج کا موقف معلوم کرنے کےلیے ان کے ترجمان سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہو سکی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طاقت ور ٹرانسمٹر سے لیس ایف ایم چینل کی نشریات 50 سے 60 کلومیٹر کے دائرے میں سنی جا سکتی ہیں۔