بلوچستان میں جامعات کی سکیورٹی کے لیے کیمپس فورس

بلوچستان میں یونیورسٹیوں اور بڑے تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے لیے اقدامات کا تو اعلان کیا گیا ہے لیکن سکولوں کے حوالے سے وہ اقدامات نظر نہیں آتے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں یونیورسٹیوں اور بڑے تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے لیے اقدامات کا تو اعلان کیا گیا ہے لیکن سکولوں کے حوالے سے وہ اقدامات نظر نہیں آتے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد بلوچستان میں یونیورسٹیوں کی سکیورٹی کے لیے ایک منصوبے کی منظوری دی گئی ہے۔

اس منصوبے کے تحت ریٹائرڈ سکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل کیمپس فورس تشکیل دی جائےگی۔

سرکاری حکام کے مطابق چارسدہ میں یونیورسٹی پر حملے کے واقعے کے بعد کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے بتایا کہ جس طرح بلوچستان یونیورسٹی کے لیے کیمپس فورس قائم کی گئی ہے اس طرز پر حکومت نے تمام یونیورسٹیوں کے لیے کیمپس فورس قائم کر نے کی منظوری دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں کے لیے سکیورٹی فورسز کے ریٹائرڈ ملازمین پر مشتمل ہوگی اور اس سلسلے میں چار سو افراد بھرتی کیے جائیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو اسلحہ چلانے کی تربیت دینے کی نوبت نہیں آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تعلیمی اداروں کے محافظین کو تربیت دیں گے لیکن اساتذہ کا کام پڑھانا اور طلباء کا کام پڑھنا ہے ہاں ان کو سکیورٹی کے حوالے سے شعور دینا چاہیے۔‘

بلوچستان میں یونیورسٹیوں اور بڑے تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے لیے اقدامات کا تو اعلان کیا گیا ہے لیکن سکولوں کے حوالے سے وہ اقدامات نظر نہیں آتے۔

سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ حکومت مجموعی طور پر تمام تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

اگرچہ حکام کی جانب سے تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے لیکن ان کو مکمل سکیورٹی کی فراہمی شاید ممکن نہ ہو کیونکہ بلوچستان میں اکثر سرکاری سکولوں کی چار دیواری تک نہیں۔

غیر سرکاری تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں ہر چار میں سے تین سکولوں کی چار دیواری نہیں جبکہ 1800 کے قریب ایسے پرائمری سکول بھی ہیں جن کی سرے سے چھت تک نہیں۔