’بس یہ بتایا کہ چھٹیاں ہیں، وجہ نہیں بتائی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سکولوں اورملک بھر کے فوج کے زیر انتظام تعلیمی اداروں میں حالیہ چھٹیوں کی وجہ تو حکام کی جانب سے سردی کی شدت بتائی جا رہی ہے تاہم سکیورٹی اقدامات میں اضافے سے یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ یہ بندش کسی ممکنہ حملے کی اطلاع پر تو نہیں کی گئی۔
صوبہ پنجاب میں دھند اور شدید سردی کا سلسلہ کئی روز سے جاری تھا تاہم تعلیمی ادارے بند کرنے کا حکم خیبر پختونخوا کے شہر چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے پانچ دن بعد ہی جاری کیا گیا۔
باچا خان یونیورسٹی کو حملے کے چار دن بعد 25 جنوری سے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم یونیورسٹی کھلنے کے کچھ ہی دیر بعد اسے دوبارہ بند کر دیا گیا اور اسی دن پنجاب کے تعلیمی اداروں کی بندش کا اعلان بھی ہوا۔
راولپنڈی کی ایک مصروف شاہراہ پر واقع فوجی فاؤنڈیشن سکول کی ایک طالبہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پیر 25 جنوری کو جب ہم سکول گئے تو ہمیں کچھ نہیں بتایا گیا، ہاں رات کو ٹی وی پر خبر سنی کہ سکول میں چھٹیاں ہو رہی ہیں اور صبح جب تصدیق کے لیے سکول گئے تو چوکیدار نے بس یہ بتایا کہ 31 تاریخ تک چھٹیاں ہیں مگر یہ نہیں بتایا کہ وجہ کیا ہے۔‘
سینیئر سیکیشن کی اس طالبہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا ان کے سکول میں کبھی حفاظتی مشقیں کروائی گئی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہمیں یہ بتایا گیا ہو کہ حملے کی صورت میں کیا کرنا ہوگا۔ ہاں یہ بتایا گیا تھا کہ اس طرح کی خبر سن کر شور نہیں مچانا، اچھلنا نہیں۔‘
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھی پنجاب کی طرح شدید سردی کی لپیٹ میں ہے تاہم یہاں سکولوں کی بندش کا کوئی حکم جاری نہیں ہوا ہے۔
تاہم دارالحکومت میں گذشتہ دو سے تین روز سے سکیورٹی ہائی الرٹ دکھائی دے رہی ہے۔ جہاں شہر میں گشت کرنے والے اہلکاروں میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے وہاں نجی گاڑیوں کے علاوہ سرکاری گاڑیوں کی بھی خصوصی چیکنگ کی جاتی رہی ہے۔
اسلام آباد کے ایک نواحی علاقے میں واقع سکول سے وابستہ ایک معلمہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے اتنی سکیورٹی کبھی نہیں دیکھی جتنی وہ گذشتہ تین روز سے دیکھ رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہماری سکول کی سرکاری گاڑی کو روک کر تلاشی لی گئی، اردگرد جانے والی گاڑیوں کو بھی روک کر چیک کیا جا رہا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہ
تاہم ان کا کہنا ہے کہ نہ تو کبھی بچوں اور نہ ہی اساتذہ کو خطرے سے بچنے کے لیے تربیت دی گئی ہے۔
’جب کسی جگہ پر کوئی ایمرجنسی ایگزٹ ہی نہیں تو آپ بتائیں ہم حملے کی صورت میں کیا کریں گے اور کہاں جائیں گے؟‘
اسلام آباد کے سرکاری سکولوں کے برعکس شہر کے چند نجی تعلیمی اداروں کی بندش نے بھی ان قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے کہ ان تعطیلات کی وجہ سردی نہیں سکیورٹی ہو سکتی ہے۔
دارالحکومت کے ایک معروف نجی تعلیمی ادارے کے ایک طالب علم نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں انتظامیہ نے 26 سے 31 مارچ تک نہ آنے کی ہدایت کی ہے اور واضح الفاظ میں بتایا ہے کہ ’سکیورٹی کے خطرے کی بنا پر چھٹی دی جا رہی ہے۔‘
تاہم اسلام آباد کے ہی ایک اور نجی سکول کے طالبعلم نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز سکول کی انتظامیہ نے انھیں بتایا تھا کہ 31 جنوری تک سکول بند رہیں گے تاہم بچوں کےگھر پہنچنے کے بعد انتظامیہ نے والدین کو یہ پیغام بھجوا دیا کہ بچوں کو جمعرات یعنی 28 جنوری سے ہی سکول بھجوا دیں۔
خیال رہے پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دسمبر 2014 میں ہونے والے حملے کے بعد بھی پاکستان کے تعلیمی ادارے کچھ عرصے کے لیے بند رہے تھے اور اس دوران ان اداروں کی انتظامیہ کو حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔







