ناقص سکیورٹی، تعلیمی اداروں کیخلاف کارروائی

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

چار سدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں سکیورٹی کے انتظامات مکمل نہ ہونے پر 775 تعلیمی اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے میں قائم جامعات کی سکیورٹی بڑھانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

تعلیمی اداروں پر حملوں کے بعد اب طلبہ اور والدین خوف کا شکار ہیں۔

والدین اساتذہ اور طلبہ ایک طرف ایسی منصوبہ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں جس سے مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں اور دوسری جانب تعلیمی اداروں میں سکیورٹی بہتر کرنے کے لیے اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ایس ایس پی آپریشن عباس مجید مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد پشاور میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کا جائزہ لیا گیا اور اب تک 683 اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ ان اداروں میں سکولوں کے علاوہ کالجز اور جامعات شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ شہر میں بیشتر سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں سکیورٹی کے مناسب انتظامات نہیں تھے، کہیں خار دار تار نہیں تھی تو کسی ادارے میں سکیورٹی گارڈز نہیں تھے۔

عباس مجید مروت نے کہا کہ اگر ان اداروں نے اپنی سکیورٹی کے انتظامت بہتر نہ کیے تو حکومت کو سفارش کی جائے گی کہ متعلقہ ادارے مکمل طور پر بند کر دیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کا یہ عمل مشترکہ ہے۔ پولیس ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں جن میں خصوصی دستے اور موبائل سکواڈ کے علاوہ کمانڈوز بھی شامل ہیں جو شہر میں تعلیمی اداروں کے گرد گشت کو یقینی بنائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کل تعلیمی اداروں کی تعداد 64,000 ہے جبکہ پولیس کی کل نفری 68,000 ہزار ہے تو ایسی صورتِِِ حال میں پولیس ہر ادارے کو سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی۔ یہاں آرمی پبلک سکول پر حملے کے زخم ابھی تازہ تھے کہ چارسدہ یونیورسٹی پر حملہ کر دیا گیا جس سے شہر میں خوف پایا جاتا ہے۔

ادھر گذشتہ روز باچا خان یونیورسٹی کو ایک روز کے لیے کھولا گیا تاہم سکیورٹی کے انتظامات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی گئی۔