خیبر پختونخوا میں تباہ ہونے والی سکولوں کی بحالی

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران تقریباً ساڑھے سات سو سکول تباہ کر دیے گئے تھے جن میں سے صرف 50 سکول ایسے ہیں جن کی مرمت اب تک مکمل نہیں ہو سکی ۔
تعلیمی اداروں پر شدت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں بچوں نے سکول جانا ہی چھوڑ دیا تھا۔
<link type="page"><caption> تعلیم پر ضرب: 6 سال میں 1300 سکول تباہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/03/130308_kpk_fata_schhol_destroy_rwa" platform="highweb"/></link>
پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر اور متنی میں سب سے زیادہ سکولوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
چند برس پہلے شدت پسندوں کے حملوں میں متنی کے سرکاری مڈل سکول کی عمارت کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا تھا، لیکن اب سکول کی عمارت دوبارہ تعمیر کر دی گئی ہے۔ اب یہاں تعلیمی سلسلہ جاری ہے۔متنی پشاور کے جنوب میں انڈس ہائی وے پر کوئی 30 کلومیٹر دور واقع ہے ۔
اس سکول میں نئی کلاس رومز اور اساتذہ کے دفاتر تعمیر ہو چکے ہیں۔ سکول میں طالب علموں کی تعداد ایک مرتبہ پھر ڈھائی سو تک پہنچ چکی ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک ڈیڑھ سو ہو گئی تھی۔
سکول کے ہیڈ ماسٹر راشد صدیق نے بی بی سی کو بتایا کہ چند سال پہلے جب ہر طرف ہر وقت دھماکے ہو رہے تھے اس میں ان کا سکول بھی تباہ ہو گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
راشد صدیق نے بتایا کہ سکول میں کل پانچ دھماکے ہوئے تھے اور تین مرتبہ اس سکول کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ پہلی مرتبہ بائیں جانب کے دو کمرے تباہ کیے گئے پھر اس کے بعد دائین جانب اور آخر میں سامنے کے دو کمروں میں دھماکے کر کے ساری عمارت کو ملیامیٹ کر دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ان دنوں میں وہ بچوں کو زمین پر بٹھا کر پڑھاتے تھے اور جن دنوں حالات زیادہ خراب ہوتے تھے تو اس کے لیے انھوں نے ایک پرائمری سکول میں بچوں کو پڑھانا شروع کیا تھا۔
ان سکولوں پر حملوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں بچوں نے تعلیم کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ان میں چھٹی جماعت کے طالبعلم عارف اللہ شامل تھے لیکن سکول کی مرمت کے بعد وہ دوبارہ سکول میں داخل ہوا ہے۔
عارف اللہ نے بتایا کہ جن دنوں دھماکے ہوتے تھے تو وہ اس خوف میں ہوتے تھے کہ ابھی کوئی آئے گا اور انھیں مار دے گا۔
محکمہ تعلیم متنی سرکل کے افسر سید قدیر شاہ نے بتایا کہ سال 2009 سے اب تک صرف پتنی گاؤں میں 50 فیصد سکولوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا تھا لیکن اب صورتحال بہتر ہے۔
سید قدیر شاہ نے بتایا کہ ان دنوں جب بھی کوئی دھماکہ ہوتا ہمیں ایسا ہی لگتا کہ پھر کسی سکول کی عمارت کو اڑا دیا گیا ہے اور یہ تو اچھا تھا کہ دھماکے رات کے وقت ہوتے تھے ورنہ زیادہ نقصان ہو سکتا تھا۔
خیبر پختونخوا میں سات سالوں میں تقریباً750 سکولوں کو مکمل تباہ کیا گیا یا جزوی نقصان پہنچایا گیا ہے ان میں سے سات سو کو دوبارہ تعمیر کر دیا گیا ہے۔
متنی سے پانچ کلومیٹر آگے ادیزئی کا علاقہ ہے اور پھر اس کے ساتھ شیر کرہ کا علاقہ ہے جہاں ایک وقت میں طالبان کا راج تھا۔ اس علاقے میں بڑی تعداد میں دھماکے ہوئے لیکن اب صورتحال تبدیل نظر آئی۔

شیر کرہ میں ہائی سکول کی تعمیر کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے لیکن اس سکول کے پرنسپل فرمان اللہ خان نے کہا کہ سکول کی تعمیر انتہائی غیر معیاری ہے، عمارت ابھی مکمل نہیں ہوئی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار پہلے سے ہو گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سکول کی عمارت میں دراڑیں واضح ہیں اور بڑی بات یہ کہ بجلی کی تاریں سکول کے درمیان سے گزر رہی ہیں جسے عارضی طور پر اونچا کر دیا گیا ہے جو کسی بھی وقت گر سکتی ہیں اور اس سے بڑا جانی نقصان ہو سکتا ہے۔
اگرچہ امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے لیکن دھماکوں اور حملوں کا خوف اب بھی پایا جاتا ہے۔ سکولوں کی حفاظت کے انتظام کہیں زیادہ اور کہیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔







