’چوکیداروں کا سکولوں میں 24 گھنٹے مسلح ڈیوٹی سے انکار‘

- مصنف, سید انور شاہ
- عہدہ, صحافی، بونیر
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے ضلع بونیر کے سکولوں میں تعینات چوکیداروں نے 24 گھنٹے مسلح ڈیوٹی کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
ان چوکیداروں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ ، پولیس اور محکمۂ تعلیم کی جانب سے ڈیوٹی سے متعلق نئے احکامات سراسر ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔
نان سیر کے پرائمری سکول کے چوکیدار ظاہرشاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر چہ چوکیداروں کو پولیس کی جانب سے اسلحہ چلانے کی تین روزہ تربیت دی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی 24 گھنٹے ڈیوٹی دینے کا حکم نامہ بھی تھما دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق سکولوں کے سکیورٹی کے منصوبے میں سب سے زیادہ بوجھ چوکیداروں پر ہی ڈال دیا گیا ہے۔
چوکیدار مطالبہ کررہے ہیں کہ سکولوں میں مزید چوکیداروں کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ رات کو ڈیوٹی دینے والے چوکیداروں کے ہمراہ پولیس کی ڈیوٹی بھی لگائی جائے۔

بونیر میں نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد 1100 کے قریب بتائی جاتی ہے جن میں عبدالولی خان یونیورسٹی کا کیمپس بھی شامل ہے اور ان اداروں میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ کے قریب طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں۔
اس حوالے سے بونیر کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر حنیف الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ اس وقت سکیورٹی کے حوالے سے ایمرجنسی کی صورتحال ہے اس لیے چوکیداروں کو فرائض سر انجام دینے کو کہا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ضلع بونیر میں پولیس اہلکاروں کی تعداد 2500 کے قریب ہے اور بونیر کے ڈپٹی سپرٹنڈنٹ آف پولیس فرمان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس امن و امان قائم رکھنے اور دہشت گردوں کا راستہ روکنے کے لیے پرعزم ہے تاہم ہر سکول کو سکیورٹی نہیں دی جا سکتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ان کا کہنا ہے کہ موبائل پیٹرولنگ اور رپیڈ سکواڈ کے ذریعے بھی سکیورٹی فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جوڑ میں موجود ایک پرائیویٹ سکول کے پرنسپل محمد خالق نے بی بی سی کو بتایا کہ تعلیمی اداروں پر حملوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں اور مضبوط سکیورٹی انتظامات اب وقت کا تقاضا ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اساتذہ کا کام بچوں کو پڑھانا ہے نہ کہ سارا دن دیواروں اور سکول کے گیٹ کی طرف دیکھنا کہ کس جانب سے دہشت گرد حملہ کر سکتے ہیں۔







