’اسلحہ نہیں چلا سکتے تو رشتہ دار کو ساتھ لے آئیں‘

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں صوبے خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم نے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے ایک نیا طریقۂ کار متعارف کروایا ہے۔
اس کے تحت اگر سکول کا چوکیدار اسلحہ استعمال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہو تو وہ اپنے کسی رشتے دار کو جو اسلحہ چلانے کی تربیت رکھتا ہو سکول کی سکیورٹی کی ذمہ داری سونپ سکتا ہے۔
اس بات کا اعلان خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم برائے ایلمینٹری اینڈ سکیورٹی ایجوکیشن کی طرف سے حال ہی میں جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں کیا گیا ہے۔
یہ اعلامیہ محکمہ تعلیم کی ویب سائٹ پر بھی جاری کیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے سکیشن آفیسر (جنرل) محمد عباس خان کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جن تعلیمی اداروں کے کمروں کی کھڑکیاں باہر کی طرف کھلی ہیں یا سڑکوں کی جانب ہیں وہاں فوری طورپر حفاظتی حصار بنایا جائے اور کھڑکیوں کو بھی جالی کی مدد سے مزید محفوظ بنائے جائے۔
اعلامیے کے مطابق اگر کسی سکول کا چوکیدار اسلحہ استعمال کرنے کی تربیت نہیں رکھتا ہو تو وہ اپنے کسی رشتہ دار، جنہیں بنندوق چلانی آتی ہو، سے مدد لے سکتا ہے اور ان کے ساتھ مل کر سکول کی سکیورٹی کی فرائص سرانجام دے سکتا ہے۔

اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوکیدار کو بندوق والدین اور اساتذہ کونسل کی مرضی سے فراہم کی جائے اور اس سلسلے میں تمام ضلعی ایجوکیشن افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسلحے کی لائسنس کے اجرا کے لیے مقامی انتظامیہ سے فوری طور پر رابط کریں۔
اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اجلاس کے تمام نکات پر من و عن عمل کیا جائے تاکہ صوبے کے تمام سکولوں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ اعلامیے کی نقل انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا، چیف سکریٹری، صوبے کے تمام کمشنروں، ضلعی ایجوکیشن آفسران سمیت تمام اعلی حکام اور اداروں کے سربراہان کو بھیجی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے طالبان حملے کے بعد سے ملک بھر میں سرکاری اور نجی سکولوں کی سکیورٹی بڑھانے کےلیے نئی ہدایات جاری کی گئیں تھیں۔ حکومت کی طرف سے تمام تعلیمی اداروں پر لازم قرار دیا گیا تھا کہ وہ سکولوں کی دیواریں اونچی کریں اور حفاظت کےلیے نجی سکیورٹی گارڈز کی خدمات حاصل کریں جبکہ خلاف ورزیاں کرنے والوں پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
لیکن چار سدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے حالیہ حملے سے ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں ایک خوف کی کفیت پیدا ہوئی ہے اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ تعلیمی اداروں کی سکیورٹی مزید بہتر بنائی جائی۔







