پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ہڑتال ختم کرنے کا اعلان

پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دو فروری سے ہڑتال شروع کی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپی آئی اے کی نجکاری کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دو فروری سے ہڑتال شروع کی تھی

پاکستان کی قومی ہوائی کمپنی کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے قومی ائیر لائنز کی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ملازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ کر باقاعدہ طور پر کام کا آغاز کر دیں۔

منگل کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ نے کراچی میں ایک نیوز کانفرنس کے ذریعے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے مذاکرات کے لیے لاہور جائیں گے۔

سہیل بلوچ کا کہنا تھا کہ ’احتجاج کو 16 دن گزر چکے ہیں، پی آئی اے کے ملازمین نے اپنے موقف کی حمایت میں جس بھرپور جدوجہد اور استقلال کامظاہرہ کیا ہے ہم اس پر انھیں تہہ دل سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

’اس جدوجہد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے دو ساتھیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آج فلائٹ آپریشن کی بندش کو آٹھ دن گزر گئے ہیں اور اس بندش کے نتیجے میں مسافروں اور جہازوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں جن سے کوئی بھی محب وطن پاکستانی اس سے صرف نظر نہیں کر سکتا۔

’حکومت کی طرح جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھی ان خدشات سے تشویش ہے اور ہم پاکستان کے اس اہم قومی اثاثے سے غیرمتعلق نہیں رہ سکتے چنانچہ ہم نے اس اہم ذمہ داری کے پیش نظر اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔‘

کراچی میں ہونے والے پرامن احتجاج پر رینجرز کی فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجے میں کم سے کم دو مظاہرین ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکراچی میں ہونے والے پرامن احتجاج پر رینجرز کی فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجے میں کم سے کم دو مظاہرین ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے

تاہم دوسری طرف پی آئی اے کے کیبن کرو ایسوسی ایشن کے صدر اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ترجمان نصراللہ خان آفریدی نے بی بی سی کی نامہ نگار نخبت ملک سے بات کرتے ہوئے ان تمام خبروں کو رد کر دیا ہے جن کے مطابق جلد ہی پی آئی اے کے معاملے پر کسی بریک تھرو کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دو فروری سے ہڑتال شروع کی تھی۔ اُس روز کراچی میں ہونے والے پرامن احتجاج پر رینجرز کی فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجے میں کم سے کم دو مظاہرین ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔