’رینجرز تحفظ کے لیے ہے یا مارنے کے لیے؟‘

،تصویر کا ذریعہepa

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے کارگو گیٹ پر منگل کی دوپہر 12 بجے کے قریب پی آئی اے کے ملازمین پرجوش اندازے میں نعرے لگاتے ہوئے جمع ہوئے تو ان کا ارادہ تھا کہ وہ جناح ٹرمینل تک پہنچ جائیں تاکہ احتجاج کو موثر بنا سکیں۔

جب یہ ملازمین کارگو ٹرمینل کے قریب نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے تو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما نجکاری نامنظور، کالا قانون نامظور جیسے نعروں والے احتجاجی بینرز سے سجے ایک ٹرک پر سوار ان کے ساتھ ساتھ رواں دواں تھے۔

تاہم ان مظاہرین کے سامنے رینجرز ایک دیوار کی طرح موجود تھے، ان اہلکاروں نے ایک ہاتھ میں رائفل تو دوسرے میں ڈنڈے اٹھا رکھے تھے اور بعض کے چہرے سیاہ نقاب سے ڈھکے ہوئے تھے۔

رینجرز کے جوان ان ملازمین کو ابتدا میں تو دھکے دے کر پیچھے کرنے کی کوشش کرتے رہے جبکہ اس دوران احتجاجی ملازمین یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ ’ہم پاکستانی ہیں، ہمیں مت مارو، ہمیں پاکستانی فوج پر فخر ہے۔‘

تاہم ملازمین کی منت سماجت کو نظر انداز کرتے ہوئے رینجرز کے جوان پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھے اور لاٹھی چارج شروع کر دیا۔

تاہم رینجرز کے پیچھے دوسری صف میں موجود پولیس اہلکار اس سارے ایکشن سے لاتعلق نظر آئے۔

 ڈنڈوں سے لیس رینجرز نے مظاہرین کو آگے نہ بڑھنے کی تنبیہ کی تاہم مظاہرین حصار توڑ کر آگے بڑھ گئے
،تصویر کا کیپشن ڈنڈوں سے لیس رینجرز نے مظاہرین کو آگے نہ بڑھنے کی تنبیہ کی تاہم مظاہرین حصار توڑ کر آگے بڑھ گئے

پھر اچانک دو فائر ہوئے اور ملازمین چیخ و پکار کے ساتھ منتشر ہوگئے تاہم رینجرز اور پولیس دونوں ہی کا دعویٰ ہے کہ گولی انھوں نے نہیں چلائی۔

فائرنگ کے چند لمحے بعد مجمعے میں سے دو زخمیوں کو باہر لایا گیا، جن کے جسم سے لہو رِس رہا تھا۔

انھیں وہاں موجود ایمبولینس میں ڈالا گیا جبکہ وہاں موجود خواتین ملازمین حکومتِ وقت کو برا بھلا کہتی سنائی دیں۔

گلشن نامی ایک احتجاجی کارکن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’رینجرز تحفظ کے لیے ہے یا لوگوں کو مارنے کے لیے۔ ان کے جسم سے یونیفارم اتار دی جائے اور ان کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھینا جائے تو ان کے دل پر کیا گزرے گی؟‘

دو افراد کے زخمی ہونے کے باوجود رینجرز اہلکار آگے بڑھتے رہے اور اسی دوران مجمع میں سے ایک کیمرہ مین اور فوٹو گرافر بھی باہر نکلے جن میں سے کیمرہ مین کا بازو ٹوٹ چکا تھا جبکہ اس کے علاوہ ایک ادھیڑ عمر شخص فٹ پاتھ پر اوندھے منہ پڑا دکھائی دیا۔

صحافی تو اپنے زخمی ساتھی کے پاس پہنچے لیکن رینجرز اہلکاروں کی موجودگی کی وجہ سے اس بے ہوش شخص کی طرف جانے کی ہمت کسی نے نہ کی۔

پھر چند خواتین ملازمین نے بےہوش شخص کے پاس پہنچ کر ایمبولینس طلب کی تو اس شخص کو ہسپتال روانہ کیا گیا۔

ایک ملازم کے کان کے نیچے زخم دکھائی دیا جس سے خون رس رہا تھا اس نے الزام عائد کیا کہ رینجرز اہلکار نے اسے کلاشنکوف کا بٹ مارا ہے۔

’رینجرز نے دھکے دیے اور اس کے بعد ملازمین پر فائرنگ کی۔ کیا اس ملک میں جمہوریت ہے، جمہوریت میں تو ہر شہری کو احتجاج کا حق ہوتا ہے۔‘

پی آئی اے کے ملازمین کو منتشر کرنے کے بعد بھی رینجرز کے اہلکاروں کی توجہ کا مرکز میڈیا بنا اور ڈنڈا بردار اہلکار اس سارے واقعے کی عکس بندی کرنے والے کیمرہ مینوں اور صحافیوں کے پیچھے دوڑ پڑے۔

اہلکاروں نے صحافیوں کو تقریباً ایک کلومیٹر تک دوڑایا جس کے بعد پورا علاقہ ان کی کنٹرول میں آ گیا۔

تاہم وہ احتجاج جو منگل کی صبح مکمل تالا بندی نہ ہونے اور پروازوں کی روانگی کی وجہ سے کچھ کمزور ہو گیا تھا، فائرنگ کے واقعے کے بعد پھر زور پکڑ گیا اور مظاہرین بالاخر ٹرمینل تک پہنچ ہی گئے۔