پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف احتجاج، دفتری کام معطل

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف ملازمین نے احتجاج کرتے ہوئے دفتری کام کو معطل کردیا ہے اور اس وجہ سے حکام کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ملازمین نے نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں 2 فروری سے فضائی آپریشن بھی معطل کرنے کی دھمکی دی ہے۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے ترجمان دانیال گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ملازمین کو دفاتر میں داخل نہیں ہونے دیا گیا، اسلام آباد اور کراچی سمیت جہاں بھی پی آئی اے کے دفاتر موجود ہیں وہاں اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ہوائی اڈوں پر دفاتر کھلے ہیں، جہاں ٹکٹوں کی بکنگ اور فروخت معمول کے مطابق جاری ہے۔ اس کے علاوہ کال سینٹر کے ذریعے بھی لوگوں کی رہنمائی کی جارہی ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی آف آل ایمپلائز آف پی آئی اے کے چیئرمین سہیل بلوچ کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے ملازمین پر شب خون مارا اور نجکاری کے لیے ایک کالا صدارتی آرڈینسن جاری کیا ہے۔ 26 فیصد شیئرز کی فروخت ہو یا اسٹریجک پارٹنر شپ کی بات ہو، ہمیں نجکاری کی کوئی بھی شکل قبول نہیں ہے۔‘
پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ملازمین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔ سہیل بلوچ کا کہنا ہے کہ پانچ دسمبر سے لے کر اب تک انھوں نے اگر کوئی انتہائی اقدام نہیں اٹھایا تو اس کی وجوہات یہ تھیں کہ انہیں یقین تھا کہ ان کے مطالبات، تجاویز اور دلائل مانیں جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔
’وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اپنی کارروائی کر رہے ہیں، اب جب اسحاق ڈار وزیر اعظم کی بات کا احترام نہیں کر رہے تو ظاہر سی بات ہے کہ بدگمانی پھیلےگی۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی دو کمیٹیاں بنائی گئیں لیکن اس سے ہٹ کر ایک تیسری کمیٹی بنا دی گئی لیکن یہ کمیٹی کن افراد پر مشتمل ہے کسی کو معلوم نہیں۔ ہمیں کہا گیا کہ آپ سے بات کریں گے اور اعتماد میں لیا جائے گا لیکن تاحال یہ ممکن نہیں ہوسکا ہے۔‘
پاکستان کی قومی ایئر لائن گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل خسارے میں ہے جس کی بحالی کے لیے حکومت متعدد بار مالی پیکیجز کا اعلان کرچکی ہے، بہتری نہ آنے کا جواز بناکر اب اس کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کی اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی مخالفت کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جوائنٹ ایکشن کمیٹی آف آل ایمپلائز آف پی آئی اے کے چیئرمین سہیل بلوچ کا کہنا ہے کہ ملازم ادارے کی بحالی کے لیے ایک منصوبہ دیں گے اور اس پر عملدرآمد کے لیے انہیں کم از کم ایک سال کا وقت دیا جائے، پھر دیکھیں کہ پی آئی اے میں بہتری آتی ہے یا نہیں۔ جزا وسزا کا نظام ہو، ایک ایماندر مینیجمنٹ ہو، اس کے بعد کوئی وجہ نہیں کہ پی آئی اے فلائٹ نہ کرسکے۔‘
جوائنٹ ایکشن کمیٹی آف آل ایمپلائز آف پی آئی اے نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات نہیں سنے اور مانے جاتے تو پھر اگلے مرحلے میں وہ 2 فروری سے فضائی آپریشن بھی معطل کردیں گے۔







