ٹیکس ایمنسٹی اور پی آئی اے کو کمپنی بنانے کے بل منظور

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی قومی اسمبلی نے تاجروں کے لیے ٹیکس ایمنسٹی سکیم اور پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کو کارپوریشن سے کمپنی میں تبدیل کرنے کے بل منظور کر لیے ہیں۔

ان بلوں کی منظوری جمعرات کو اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان کی عدم موجودگی میں دی گئی جو احتجاج کے بعد اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔

حزب مخالف کی جماعتیں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ اہم ہیں، ٹیکس ایمنسٹی بل کی شدید مخالفت کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تاجروں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔

اس سکیم کے تحت حکومت نے ٹیکس نہ دینے والے ’چھوٹے‘ تاجروں کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ اپنی پانچ کروڑ روپے سالانہ تک کی آمدن کو جائز بنانا چاہتے ہیں تو وہ ایک فیصد ٹیکس دے کر ایسا کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں دس لاکھ سے بھی کم لوگ ٹیکس دیتے ہیں

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں دس لاکھ سے بھی کم لوگ ٹیکس دیتے ہیں

اس سکیم سے فائدہ اٹھانے والے تاجروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی البتہ اگلے برس سے یہ تاجر پہلے سے طے شدہ سرکاری شرح کے مطابق باقاعدہ ٹیکس دینے کے پابند ہوں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے سپیکر کے ڈائس کے سامنے کھڑے ہوکر اس بل کی کاپیاں پھاڑیں اور اس دوران قومی اسمبلی کے سپیکر اور پی ٹی آئی کے اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے کہا کہ وہ خود تو ایوان میں نہیں آتے لیکن کم سے کم ایوان کے اراکین کی آرا کو تو اہمیت دیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس بل کے پاس ہونے کی وجہ سے اُن لوگوں پر اضافی بوجھ پڑے گا جو پہلے سے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں دس لاکھ سے بھی کم لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کل ملکی آمدن کا نو فیصد ہے۔ یہ شرح دنیا بھر میں کم ترین سمجھی جاتی ہے۔

حکومتِ پاکستان پی آئی اے کے 26 فیصد حصص کو نجی شعبے کے حوالے کرنا چاہتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحکومتِ پاکستان پی آئی اے کے 26 فیصد حصص کو نجی شعبے کے حوالے کرنا چاہتی ہے

پاکستان تحریک انصاف کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایوان سے یہ بل پاس ہونے کے باوجود اسے سپریم کورٹ میں چیلینج کیا جائے گا اور اس میں دیگر ہم خیال جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

قومی اسمبلی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو بھی کارپوریشن سے کمپنی بنانے کے بل کی منظوری دی جس پر حزب مخالف کی جماعتوں نے بھرپور احتجاج کیا۔

پی آئی اے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس نقصان میں چلنے والے اہم قومی ادارے کے 26 فیصد حصص کو اصلاحاتی عمل سے گزرنے کے بعد نجی شعبے کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتیں خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی پی آئی اے کی نجکاری کے منصوبے کی شدید مخالفت کرتی رہی ہے۔