آمدن کے ہدف پورے کرنے کے لیے چالیس ارب کے اضافی ٹیکس

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی حکومت نے نے بیرون ملک سے درآمد کیے جانے والی سینکڑوں اشیا پر درآمدی ڈیوٹی میں اضافے کا اعلان کیا ہے جس سے حکومت کو چالیس ارب روپے کی اضافی آمدن ہو گی۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ "غیر ضروری سامان آسائش" پر یہ اضافی ڈیوٹی اس لیے عائد کی گئی ہے کہ حکومت اپنی آمدن کے اہداف حاصل نہیں کر سکی ہے۔
’آمدن کی جو ہدف ہم نے جون سے نومبر تک کے لیے مقرر کیا تھا اس میں چالیس ارب کے خسارے کا سامنا ہے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے ہم نے بیرون ملک سے آنے والے بعض سامان پر اضافی درآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
معاشی میدان میں فیصلہ کرنے والے اعلیٰ ترین سرکاری ادارے، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سوموار کے روز ہونے والے اجلاس میں حکومت نے جن تین سو سے زائد سامان تعیش پر اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں بیرون ملک سے آنے والا خواتین کے میک اب کا سامان اور ایسے پھل اور کھانے پینے کی اشیا ہیں جو پاکستان میں پیدا یا تیار نہیں ہوتیں۔ ان میں درآمدی پنیر اور پھل وغیرہ شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس کے علاوہ ایک ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر بھی درآمدی ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ یہ اضافی ٹیکسز عائد کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ اس اضافے کا اثر ان اشیا پر نہ پڑے جو متوسط طبقے کے عوام استعمال کرتے ہیں۔
کابینہ کی کمیٹی نے اگلے سال ہونے والی گندم کی فصل کے لیے امدادی قیمت تیرہ سو روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مکئی کی درآمد پر بھی تیس فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق ان فیصلوں کا مقصد مکئی کے کاشتکاروں کو تحفظ دینا ہے تاکہ انہیں اپنی فصل کی اچھی قیمت مل سکے۔



