ٹیکس ایمنسٹی کی سکیم پر تنقید جاری

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں حکومت نے ٹیکس دینے والوں کی تعداد بڑھانے کی غرض سے ٹیکس ایمنسٹی کی جو سکیم شروع کی ہے اس پر مختلف سیاسی جماعتوں اور ماہرین کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔
حکومت نے ٹیکس نہ دینے والے ’چھوٹے‘ تاجروں کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ اپنی پانچ کروڑ روپے سالانہ تک کی آمدن کو جائز بنانا چاہتے ہیں تو وہ ایک فیصد ٹیکس دے کر ایسا کر سکتے ہیں۔
اس سکیم سے فائدہ اٹھانے والے تاجروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی البتہ اگلے برس سے یہ تاجر پہلے سے طے شدہ سرکاری شرح کے مطابق باقاعدہ ٹیکس دینے کے پابند ہوں گے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اس ٹیکس ایمنسٹی سکیم پر سب سے پہلی تنقید تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے کی گئی جن کا مؤقف ہے کہ حکومت نے یہ سکیم خود اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لیے تیار کی ہے۔
’مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ سکیم حکومت نے اپنے لیے شروع کی ہے تاکہ یہ لوگ اپنا کالا دھن سفید کر سکیں۔ ہم اس سکیم کی سخت مخالفت کریں گے۔‘
عمران خان اس سکیم کی مخالفت میں اس حد تک چلے گئے کہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ سکیم ٹیکس چوروں کو تحفظ دینے کے لیے ہے۔
عمران خان کے علاوہ حزب اختلاف کی دیگر بڑی جماعتوں نے بھی حکومت کی اس ٹیکس سکیم کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔
سیاسی جماعتوں، خاص طور پر عمران خان کی اس تنقید سے براہ راست متاثر ہونے والی تاجر برادری نے عمران خان کی اس تنقید کا جواب دینے کے لیے سوموار کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور تاجر برادری کو ’ٹیکس چور‘ قرار دینے پر سیاسی جماعتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

پاکستانی تاجروں کی تنظیم کے رہنما محمد نعیمی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سیاسی رہنما اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لیے اس سکیم کی مخالف اور چھوٹے تاجروں کی تذلیل کر رہے ہیں۔
’ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ کراچی کا تاجر سرکار کو ٹیکس نہ دے بلکہ ان کو بھتہ دے۔ پیپلز پارٹی کرپشن کے خلاف تحقیقات کو رکوانے کے لیے اس بل کی مخالفت کر کے اسے سیاسی مسئلہ بنا رہی ہے اور مجھے سمجھ نہیں آتی کہ چھوٹے تاجروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والے عمران خان اس سکیم کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں۔‘
وزیر مملکت اور سرمایہ کاری بورڈ کے سربراہ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں یہ ٹیکس سکیم صرف چھوٹے تاجروں کے لیے ہے اور اس پر یہ تنقید درست نہیں کہ حکومت نے ارب پتی افراد کو نوازنے کے لیے یہ سکیم شروع کی ہے۔
’اس سکیم کے ذریعے اربوں کی جائیدادیں یا کالا دھن سفید نہیں ہو رہا۔ اس سکیم کا ہدف چھوٹا تاجر ہے جس کی ماہانہ آمدن تین سے چار لاکھ روپے ہیں۔ وہ مکینک ہیں جو محنت کر کے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔ چھوٹے دکاندار ہیں۔ اگر وہ لوگ کچھ ٹیکس دے کر ٹیکس کے دائرے میں آ جاتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے؟‘
چھوٹے تاجروں کے لیے اس سکیم کا اجرا ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب حکومت نئے ٹیکس دینے والوں کو ٹیکس دینے پر راغب کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ پاکستان میں دس لاکھ سے بھی کم لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کل ملکی آمدن کا نو فیصد ہے۔ یہ شرح دنیا بھر میں کم ترین سمجھی جاتی ہے۔
اس نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم پر عمل شروع ہو گیا ہے اور ساتھ ہی اس کی مخالفت کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت اپنے گذشتہ ادوار میں بھی ٹیکس معاف کرنے کی ایسی سکیمیوں کا اعلان کرتی رہی ہے۔







