قرضوں کے مسائل کتنے سنگین؟

پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کی شرح دنیا میں کم ترین تصور کی جاتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں ٹیکس دینے والوں کی شرح دنیا میں کم ترین تصور کی جاتی ہے
    • مصنف, زیاد ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

پاکستان میں ٹیکس کے نظام پر تحقیق کرنے والے ایک ادارے کی رپورٹ میں جہاں ٹیکس کی انتہائی کم شرح کی نشاندہی کی گئی ہے وہیں ملک کے اندرونی و بیرونی قرضوں میں غیر معمول حجم کو معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

مالیاتی اور سماجی معاملات پر تحقیق کرنے والے ادارے ’رفتار‘ کے سربراہ ثاقب شیرانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنی رپورٹ کے اہم پہلوؤں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صرف 0.3 فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں جبکہ ہمسایہ ملک بھارت میں یہ شرح اس سے دس گنا یعنی تین فیصد ہے۔

انھوں نے کہا کہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کم ہونے سے ملک میں ترقیاتی منصوبوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

’ٹیکس محصولات کم ہونے کی وجہ ملک کو ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری میں تاریخی خسارے کا سامنا رہا ہے اور اس کی وجہ سے تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں بہتری نہیں آ سکی۔‘

انھوں نے کہا کہ ٹیکس آمدن میں گذشتہ ایک دہائی میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو زیادہ قرض لینے پڑے اور اسی وجہ سے قرض کے حجم میں گذشتہ سات برس کے دوران تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں صحت اور تعلیم کے شعبے پر توجہ نہیں دی جا سکی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں صحت اور تعلیم کے شعبے پر توجہ نہیں دی جا سکی

ثاقب شیرانی نے قرضوں کے منفی پہلوؤں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ملک میں ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کا 44 فیصد ان قرضوں کا سود ادا کرنے میں چلا جاتا ہے۔

’سات برس میں قرضوں کے حجم میں تین گنا اضافہ بڑھتے ہوئے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے جو ملکی معیشت کو انتہائی تیزی سے غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ یہ محض قرضوں کا تیزی سے بڑھتا ہوا حجم نہیں بلکہ غیرپائیدار بھی ہے کیونکہ حکومت کی آمدن کا ایک بڑا حصہ آہستہ آہستہ سود کی مد میں جا رہا ہے۔ ‘

انھوں نے ملک میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی ٹیکس اصلاحات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ حکومتوں کے برعکس موجودہ حکومت نے ٹیکس کے نظام میں اصلاحات متعارف کرانے میں زیادہ پیش رفت کی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے پروگرام کی شرائط کے تحت حکومت نے دو تہائی مضبوط کاروباری گروپوں کو ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ‘

ثاقب شیرانی نے ٹیکس آمدن میں اضافے کے دعوے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں سے اضافی ٹیکس وصول کر کے ہوا نہ کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھا کر۔