وِد ہولڈنگ ٹیکس کے خلاف ملک گیر ہڑتال

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عدیل اکرم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان میں تاجروں کا وِد ہولڈنگ ٹیکس کے خلاف مرحلہ وار احتجاج جاری ہے اور اسی سلسلے میں بدھ کے روز ملک گیر ہڑتال کے باعث بڑے بڑے شہروں میں اکثر تجارتی مراکز اور مارکیٹں بند رہیں۔
تاجر رہنماؤں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر یہ ٹیکس واپس نہ لیا گیا تو تاجر برداری لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہوگی۔
حکومت نے بینکاری لین دین پر اعشاریہ تین فیصد وِد ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا ہے اور تاجر برداری اس کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔
تاجرتنظیموں کے اعلان پر ملک بھر کی بڑی چھوٹی مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند ہونے سے تجارتی سرگرمیاں ماند رہیں۔
صوبائی دارالحکومتوں لاہور، کراچی،کوئٹہ اور پشاور کی طرح دیگر شہروں میں بھی شٹر ڈاؤن رہا۔
تاجر رہنماؤں نے متنبہ کیا ہے کہ جب تک حکومت بینکوں سے لین دین پر وِد ہولڈنگ ٹیکس واپس نہیں لیتی تب تک نہ صرف احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا بلکہ لانگ مارچ بھی کیا جاسکتا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاجر تنظیموں کے عہدیداروں نے کہا کہ ملک گیر ہڑتال کے بعد حکومت سنجیدگی سے تاجربرداری کے تحفظات کو دور کرے۔
انجمنِ تاجران پاکستان کے سیکریٹری جنرل نعیم میر کا کہنا ہے کہ ملک بھر کی تاجر تنظیموں سے مشاورت کے بعد جلد اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نعیم میر کا کہنا ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور عیدالاضحی سے پہلے سندھ اور بلوچستان جبکہ عید کے بعد خیبر پختونخواہ، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور پنجاب میں احتجاجی اجلاس ہوں گے۔
تاجر رہنما نے بتایا کہ احتجاجی اجلاسوں کے دوران نیشنل ہائی وے اور فیڈرل ریونیو بورڈ کے دفتر کے باہر بھی دھرنا دیا جائے گا۔
نعیم میر کے مطابق احتجاج اور دھرنے کے لیے سیاسی جماعتوں سے بھی حمایت طلب کی جائے گی۔
آل پاکستان انجمن تاجران کے جنرل سیکریٹری طاہر نوید نے کہا کہ تاجروں سے مذاکرات کے نام پر مذاق بند کیا جائے اور وزیراعظم خود اُن کے ساتھ مذاکرات کریں کیونکہ تاجر اب ایف بی آر اور وزارتِ خزانہ کے حکام کے ساتھ مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔







