لاہور کے تعلیمی اداروں میں سکیورٹی سخت

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد لاہور میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ نے سکیورٹی کی مشق کی اور چارسدہ میں ہلاک ہونے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی۔
پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والی ریہرسل میں پولیس کے جوانوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔
یونیورسٹی آنے والے طلبہ اور اساتذہ کی سخت چیگنگ کی گئی اور سب کے کارڈ دیکھے گئے، جبکہ یونیورسٹی کے میدان میں چارسدہ میں ہلاک ہونے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔
نماز جنازہ جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے پڑھائی جس میں طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ پنجاب حکومت نے تمام نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کی سکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ناقص سکیورٹی انتظامات والے سکولوں کو بند کر دیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے بچوں کو سکول لانے اور لے جانے والی گاڑیوں کی حفاظت اور محفوظ پارکنگ کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سکول کے اوقات کے دوران تعلیمی اداروں کی حدود میں غیرمتعلقہ افراد کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں سکولوں کا دورہ کریں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے چارسدہ حملے کے خلاف مذمتی قرارداد اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں جمع کروائی ہے۔ قرارداد میں حملے میں ہونے والی ہلاکتوں پر دکھ کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی غیرمشروط اور مکمل حمایت اور تمام صوبائی اور وفاقی حکومت سے اس مقصد کے لیے بغیر کسی دباؤ کے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں بھی سانحہ چارسدہ کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا اور وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔







