بگٹی مقدمۂ قتل: پرویز مشرف سمیت تین نامزد ملزمان بری

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کے مقدمۂ قتل میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف سمیت تین نامزد ملزمان کو بری کر دیا ہے۔

نواب محمد اکبر خان بگٹی 26 اگست 2006 کو ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے درمیانی علاقے ترتانی میں ایک فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر ان کی ہلاکت کا مقدمہ تین سال بعد اکتوبر 2009 میں درج کیا گیا تھا۔

اس مقدمے کے ملزمان میں سابق صدر پرویز مشرف کے علاوہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ ، سابق صوبائی وزیر داخلہ شعیب احمد نوشیر وانی، سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی، سابق وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف اور سابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی عبدالصمد لاسی شامل تھے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق پیر کو اس مقدمے کے فیصلہ سناتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج جان محمد گوہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے پرویز مشرف کے علاوہ آفتاب احمد شیر پاؤ اور شعیب نوشیروانی کو بھی بری کرنے کا حکم دیا۔

مقدمے کے بقیہ تین ملزمان شوکت عزیز، اویس غنی اور عبدالصمد لاسی کو اس مقدمے میں مفرور قرار دیا جا چکا ہے۔

نواب بگٹی کے قتل کا واقعہ ایک فوجی آپریشن کے دوران 26 اگست 2006ء میں پیش آیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننواب بگٹی کے قتل کا واقعہ ایک فوجی آپریشن کے دوران 26 اگست 2006ء میں پیش آیا تھا

اس مقدمے کے ایک ملزم سابق وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف کا نام ان کی وفات کے بعد پہلے ہی مقدمے سے نکالا جا چکا ہے۔

عدالت نے نواب بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کی جانب سے اپنے والد کا ڈی این اے ٹیسٹ اور قبر کشائی اقوام متحدہ کی نگرانی میں کروانے کی درخواستیں بھی مسترد کر دیں۔

فیصلے کے بعد نواب جمیل بگٹی کے وکیل سہیل راجپوت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کو عدالتِ عالیہ میں چیلنج کیا جائے گا۔

انھوں نے مقدمے میں تفتیشی اداروں کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں ان کے موکل کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔