پٹھان کوٹ پر حملہ، چھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملے میں پاکستانی عناصر کے ملوث ہونے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک چھ رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔

اس کمیٹی میں پولیس کے علاوہ ملٹری انٹیلی جنس اور پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے کے اعلیٰ اہلکار بھی شامل ہیں۔

صوبہ پنجاب کے محکمۂ انسداد دہشت (سی ٹی ڈی) کے ایڈیشنل آئی جی رائے طاہر کو اس تحقیقاتی کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔

ان کے علاوہ اس کمیٹی میں ملٹری انٹیلی جنس کے لیفٹینٹ کرنل عرفان مرزا، آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر نعمان سعید، ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو عظیم ارشد، ڈائریکٹر وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) لاہور ڈاکٹر عثمان انور اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا صلاح الدین خٹک شامل ہیں۔

پٹھان کوٹ میں ہونے والے حملے میں بھارت کے سات فوجی ہلاک ہوئے تھے اور چار دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد چھ شدت پسند بھی مارے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپٹھان کوٹ میں ہونے والے حملے میں بھارت کے سات فوجی ہلاک ہوئے تھے اور چار دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد چھ شدت پسند بھی مارے گئے تھے

اس سے قبل بدھ کی صبح وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس کے بعد یہ اعلان کیا گیا تھا کہ پٹھان کوٹ پر حملے کے پس منظر میں ہونے والی تحقیقات کے سلسلے میں جیش محمد نامی شدت پسند تنظیم کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ملک کی داخلی سکیورٹی کے بارے میں ہونے والے اس اجلاس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، کور کمانڈر لاہور، ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو اور دیگر اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ پٹھان کوٹ پر حملے کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات میں خاصی حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جیش محمد کے ملک میں موجود دفاتر کو ڈھونڈ کر ان پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور کئی دفاتر کو سیل بند کر دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو پٹھان کوٹ بھجوانے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔ اس تحقیقاتی ٹیم کو بھارت کی حکومت سے مشاورت کے بعد پٹھان کوٹ بھجوایا جائے گا۔

پٹھان کوٹ پر حملے کے پس منظر میں ہونے والی تحقیقات کے سلسلے میں جیش محمد نامی شدت پسند تنظیم کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپٹھان کوٹ پر حملے کے پس منظر میں ہونے والی تحقیقات کے سلسلے میں جیش محمد نامی شدت پسند تنظیم کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے

اس اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پاکستان بھارت کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔

پاکستان کی سرحد سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پٹھان کوٹ میں ہونے والے حملے میں بھارت کے سات فوجی ہلاک ہوئے تھے اور چار دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد چھ شدت پسند بھی مارے گئے تھے۔

گذشتہ روز بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ پاکستان نے پٹھان کوٹ پر حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور ’فی الحال اس کے وعدے پر اعتبار نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘

وزیرِ داخلہ نے مزید کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان مجوزہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں اس کا فیصلہ مناسب وقت پر کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے گذشتہ ماہ لاہور کے اچانک اور مختصر دورے کے بعد توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان مذاکرات 15 جنوری کو ہو سکتے ہیں۔