’بھارت کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائےگا‘

پاکستان نے بھارتی قیادت ک ےساتھ ہونے والی حالیہ ملاقاتوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور بامعنی اور جامع مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے

،تصویر کا ذریعہPM HOUSE

،تصویر کا کیپشنپاکستان نے بھارتی قیادت ک ےساتھ ہونے والی حالیہ ملاقاتوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور بامعنی اور جامع مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے

پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت نے بھارتی فضائیہ کے پٹھان کوٹ میں واقع اڈے پر حملے کے حوالے سے بھارتی حکومت کے ساتھ رابطے میں رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بھارت کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ فیصلہ جمعے کو وزیراعظم میاں نواز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ہوا۔

علاقائی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بلائے گئے اجلاس میں برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، وزیرِ داخلہ چوہدری نثار، وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ، ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر اور ڈی جی ملٹری آپریشنز بھی شریک ہوئے۔

اجلاس کے شرکانے بھارتی حکومت کی جانب سے اس حملے کے بارے میں پاکستان کو فراہم کی جانے والی معلومات کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ بھی لیا۔

چار دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد چھ شدت پسند مارے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنچار دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد چھ شدت پسند مارے گئے تھے

بیان کے مطابق شرکائے اجلاس نے اجلاس کے دوران دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بھارت کی مدد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات کی توثیق بھی کی گئی کہ پاکستان دہشتگردی کی ہر قسم کی مذمت کرتا ہے۔

دہشت گردی اور انتھاپسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے تمام اداروں کے درمیان موجود ہم آہنگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ کسی بھی دہشت گرد کو دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کرنے کے لیے پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

اجلاس میں پاک بھارت قیادت کی حالیہ ملاقاتوں پر اعتماد کا اظہار کیا گیا اور بامعنی اور جامع مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔

خیال رہے کہ بھارت نے پاکستان سے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ تبھی آگے بڑھے گا، جب پاکستان پٹھان کوٹ ایئربیس کے حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے گا۔

پٹھان کوٹ حملے سے کچھ ہی دن پہلے بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کا غیر متوقع دورہ کیا تھا جسے دورہ خیرسگالی کہا گیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپٹھان کوٹ حملے سے کچھ ہی دن پہلے بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کا غیر متوقع دورہ کیا تھا جسے دورہ خیرسگالی کہا گیا

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ کے مطابق ’گیند اب پاکستان کی کورٹ میں ہے اور ہمیں اب یہ دیکھنا ہے کہ دہشت گرد حملے اور اس پر دی جانے والی انٹیلی جنس پر پاکستان کا کیا ردعمل ہوتا ہے۔‘

گذشتہ ہفتے بھارت کے صوبے پنجاب میں پٹھان کوٹ کے علاقے میں ایئر بیس پر حملے میں سات بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے اور چار دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد چھ شدت پسند مارے گئے تھے۔

اس حملے کے بعد بھارت نے کہا تھا کہ اس نے پاکستان کو قابلِ عمل اور ٹھوس معلومات فراہم کی ہیں جبکہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نے اپنے بھارتی ہم منصب کو اس معاملے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا۔

اسی تناظر میں جمعرات کو امریکہ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر زور دیا کہ وہ بھارت میں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر ہونے والے حملے کے سلسلے میں شفاف اور مکمل تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے یومیہ بریفنگ میں کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ پٹھان کوٹ حملے کی مکمل، شفاف اور جامع تحقیقات ہوں اور ہم اس سلسلے میں پاکستان کے حکام سے مکمل رابطے میں ہیں۔‘

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ تحقیقات مکمل ہونے میں کتنا وقت لگے گا اور کس حد تک شفاف ہوں گی۔‘