افغانستان میں امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں: ربانی

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ملاقاتوں میں امن اور مفاہمتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر بات کی گئی ہے اور افغانستان میں امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔
انھوں نے یہ بات اسلام آباد میں ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں امریکہ، پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
ان ملاقاتوں میں افغانستان میں امن اور مفاہمتی عمل کے دوبارہ شروع ہونے پر خاص بات کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ امن اور مفاہمتی عمل کے دوبارہ شروع ہونے پر ہمارے اتحادی امریکہ، چین اور پاکستان نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
’سب اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔‘
ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا قندوز میں طالبان کے کامیاب حملے کے بعد امن مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے طالبان نے کوئی نئی شرائط عائد کی ہیں؟ اس سوال پر انھوں نے کہا کہ پہلے مذاکرات شروع ہو جانے دیں جس کے بعد ان کی جانب سے یا حکومت کی جانب سے شرائط کے بارے میں بتایا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صلاح الدین ربانی نے کہا کہ دہشت گردی کا سامنا کسی ایک ملک کو نہیں بلکہ پورے خطے کو ہے اس لیے اس کانفرنس میں خطے میں مشترکہ سکیورٹی حکمت عملی اور مشترکہ انسداد دہشت گردی سٹیریٹیجی پر زور دیا گیا ہے۔
افغان وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ کیا ضمانت ہے کہ اس بار امن اور مفاہمتی عمل کو تیسری قوت پھر ناکام نہیں بنا دے گی؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ کس نے پچھلی بار مفاہمتی عمل کو ڈی ریل کیا۔ اگر آپ کو معلوم ہو جائے تو ہمیں بھی بتا دیجیے گا تاکہ ان کو اس بار ایسا نہ کرنے دیا جائے۔‘
ایک اور سوال کے جواب میں افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ جس طرح پاکستان کی تاجر برادری وسط ایشیا تک رسائی کی خواہوں ہے اسی طرح افغان تاجر برادری بھی بھارت تک رسائی کی خواہاں ہے۔
انھوں نے افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کے حوالے سے کہا کہ یہ خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے اور جس طرح عالمی سطح پر اس کے خلاف متحد ہو کر کارروائیاں کی جا رہی ہیں اسی طرح اس خطے میں بھی ایسا ہی کرنا ہو گا۔







