قلعہ سیف اللہ سے تین تشدد زدہ لاشیں برآمد

بلوچستان کے طول و عرض سے تشدد زدہ لاشوں کی بر آمدگی کا سلسلہ 2008 میں شروع ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبلوچستان کے طول و عرض سے تشدد زدہ لاشوں کی بر آمدگی کا سلسلہ 2008 میں شروع ہوا تھا
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں افغانستان کی سرحد سے متصل ضلع قلعہ سیف اللہ سے تین نامعلوم افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔

اتوار کو ملنے والی یہ لاشیں ضلع کے علاقے مسلم باغ سے برآمد ہوئی ہیں۔

مسلم باغ میں ایک پولیس اہلکار نے لاشوں ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طور نیکہ کے علاقے میں ایک ندی میں لاشوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ جس جگہ لاشیں پڑی تھیں وہاں بہت زیادہ خون نہیں تھا، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ان افراد کو کسی اور جگہ پر مارنے کے بعد یہاں ندی کے پاس اُن کی کی لاشیں پھینک دی گئیں۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ تینوں لاشیں خون میں لت پت تھیں جبکہ ان کے گلے پر رسی کے بھی نشانات تھے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک کی عمر 55سے60 سال کے درمیان تھی اور اس کی سفید داڑھی تھی جبکہ دیگر افراد کی عمر 20سے 35سال کے درمیان تھی۔

پولیس اہلکار کے مطابق تاحال ان افراد کی شناخت نہیں ہوئی لیکن شکل سے بلوچ معلوم ہوتے تھے۔

اہلکار نے بتایا کہ تینوں نامعلوم افراد کی لاشوں کو شناخت کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

صوبے کے مختلف علاقوں سے کمی و بیشی کے ساتھ لاشوں کی برآمدگی کاسلسلہ اب بھی جاری ہے لیکن بلوچستان کی موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان میں کمی آئی ہے۔

صوبائی حکومت نے رواں برس کے آغاز میں بتایا تھا کہ 2014 کے دوران صوبے سے 164 ایسی لاشیں ملی ہیں۔

تاہم پاکستان میں لاپتہ بلوچ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ گذشتہ برس کے دوران کل 435 بلوچ لاپتہ ہوئے جبکہ 455 افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔

بلوچستان کے طول و عرض سے تشدد زدہ لاشوں کی بر آمدگی کا سلسلہ 2008 میں شروع ہوا تھا تاہم ایسے واقعات کے مقدمات کے اندراج کا سلسلہ 2010 سے سپریم کورٹ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔