شرجیل انعام میمن کو وزارت سے الگ کر دیا گیا

شرجیل انعام میمن پر جب ملک سے باہر جانے کی پابندی لگائی گئی وہ ملک سے باہر علاج کے لیے دبئی میں تھے
،تصویر کا کیپشنشرجیل انعام میمن پر جب ملک سے باہر جانے کی پابندی لگائی گئی وہ ملک سے باہر علاج کے لیے دبئی میں تھے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

چند روز قبل ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے جانے والے سندھ حکومت کے وزیر شرجیل انعام میمن کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے بدھ کے روز جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ کی سفارش اور گورنر سندھ کی منظوری سے شرجیل انعام میمن کے بطور صوبائی وزیر کا نوٹیفیکشن واپس لے لیا گیا ہے۔

ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد بریفنگ میں صوبائی مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو سے جب سوال کیا گیا کہ جن کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ہیں وہ آپ کی کابینہ میں موجود ہیں جس پر انھوں نے جواب دیا کہ آپ جس کا ذکر کر رہے ہیں اب وہ وزیر نہیں رہے۔ جس پر صحافیوں نے انہیں بتایا کہ ان کے پاس محکمہ نہیں لیکن وہ وزیر ہیں جس پر مولابخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ اب وہ وزیر بھی نہیں رہے۔

یاد رہے کہ شرجیل انعام میمن سنہ 2007 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی خود ساختہ جلاوطنی سے چند ماہ قبل پیپلز پارٹی کی اگلی صفوں میں شامل ہوئے تھے، وہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے قریبی دوستوں میں شامل تھے بعد میں انھوں نے پارٹی قیادت کا ساتھ دیا۔

2008 کے عام انتخابات میں وہ تھر میں ننگر پارکر کی صوبائی نشست پر انتخابات لڑے لیکن سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے بھائی ارباب عبداللہ سے شکست کھا گئے۔ بعد میں ارباب عبداللہ کی ایک حادثے میں ہلاکت کے بعد وہ اس نشست پر ضمنی انتخابات میں کامیاب ہوئے۔

2013 کے انتخابات میں انہیں حیدرآباد کے دیہی علاقے ٹنڈو جام سے صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دیا گیا تھا جہاں سے انھوں نے کامیابی حاصل کی۔

شرجیل انعام میمن پیپلز پارٹی کے دونوں ادوار میں محکمہ آثار قدیمہ، اطلاعات اور بلدیات کے صوبائی وزیر رہے بعد میں ان سے وزارتِ اطلاعات کا قلمدان لے کر نثار کھوڑو کو دے دیا گیا۔

مہران یونیورسٹی سے انجنیئرنگ پاس شرجیل انعام دبئی اور بعد میں کراچی میں ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک رہے ہیں ان کا خاندان سندھ میں ادبی علمی حوالے سے بھی شہرت رکھتا ہے۔

قومی احتساب بیورو ان کے خلاف کرپشن کے معاملات اور خاص طور پر سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ پر تحقیقات کر رہا ہے۔