مسلم لیگ فنکشنل مقبول جماعت کیوں بن نہ سکی؟

مرحوم پیر پگارا شاہ مردان شاہ بَرملا کہتے تھے کہ وہ جی ایچ کیو کے آدمی ہیں جبکہ موجودہ پیر پگارا پیر صبغت اللہ شاہ نے بھی یہ روایت جاری رکھی ہے
،تصویر کا کیپشنمرحوم پیر پگارا شاہ مردان شاہ بَرملا کہتے تھے کہ وہ جی ایچ کیو کے آدمی ہیں جبکہ موجودہ پیر پگارا پیر صبغت اللہ شاہ نے بھی یہ روایت جاری رکھی ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ میں اقتدار کی سیاست میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے بعد مسلم لیگ فنکشنل تیسری فریق ہے جو یا تو حکومت کی حامی یا پھر مخالف اتحاد میں شامل ہوتی ہے۔

سنہ 2007 تک پاکستان مسلم لیگ فنکشنل صوبے میں تیسری بڑی جماعت کے طور پر موجود تھی لیکن گذشتہ آٹھ برس کےدوران ہونے والے دو عام اور حالیہ بلدیاتی انتخابات میں یہ جماعت سکڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔

دانشور جامی چانڈیو کے مطابق فنکشنل لیگ کا سندھ میں کوئی بڑا تنظیمی نیٹ ورک نہیں جبکہ تنظیم کے سربراہ پیر پگارا کی سیاست ان کی روحانی حُر جماعت تک محدود ہے جس کا زیادہ اثر سانگھڑ اور خیرپور کے اضلاع میں ہے، اگرچہ دیگر کچھ علاقوں میں ان کےحمایتی اور بااثر لوگ موجودہیں۔

حُر جماعت کے چَھٹے روحانی پیشوا پیر پگارا صبغت اللہ شاہ راشدی نے برطانوی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا، جس کے بعد انھیں گرفتار کر کے پھانسی دے دی گئی جس کے ردعمل میں ان کے مریدوں نےحُر تحریک کے نام سے گوریلا جنگ شروع کی تھی۔

پیر صبغت شاہ کے فرزند سابق پیر پگارا شاہ مردان شاہ کو بچپن میں لندن منتقل کر دیا گیا اور بعد میں پاکستان کے اُس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان کی ثالثی میں انھیں وطن آنے کی اجازت ملی۔

محقق خادم سومرو کے مطابق پیر پگارا لیاقت علی خان اور اسٹیبلشمنٹ سے معاہدہ کے تحت واپس آئے تھےاس لیے وہ لیگی سیاست کا حصہ رہے۔

پاکستان فوج میں پیرپگارا کے مریدوں پر مشتمل حُر فورس کے نام سے ایک رضاکار بریگیڈ بھی موجود ہے اور بھارت کے ساتھ ملحقہ سرحد پر فوج کےساتھ چوکیداری ان کی بھی ذمہ داری ہے۔

شاہ مردان شاہ لیاقت علی خان اور اسٹیبلشمنٹ سے معاہدہ کے تحت واپس آئے تھےاس لیے وہ لیگی سیاست کا حصہ رہے
،تصویر کا کیپشنشاہ مردان شاہ لیاقت علی خان اور اسٹیبلشمنٹ سے معاہدہ کے تحت واپس آئے تھےاس لیے وہ لیگی سیاست کا حصہ رہے

مرحوم پیر پگارا شاہ مردان شاہ بَرملا کہتے تھے کہ وہ جی ایچ کیو کے آدمی ہیں جبکہ موجودہ پیر پگارا پیر صبغت اللہ شاہ نے بھی یہ روایت جاری رکھی ہے۔

فنکشنل لیگ کے رہنما اور سابق بیوروکریٹ امتیاز شیخ کا کہنا ہے کہ پیر صاحبان نے اسٹیبلشمنٹ سے تعلق کو حُر جماعت تک محدود رکھا ہے۔

فیلڈ مارشل ایوب خان، جنرل ضیاالحق اور جنرل مشرف اور ان کی زیر سایہ حکومتوں میں مسلم لیگ فنکشنل اور پیر پگارا کو حصہ ملتا رہا ہے جبکہ سندھ میں ان ادوار کو ہمیشہ عوام مخالف سمجھا گیا ہے۔

خادم سومرو کے مطابق پیر پگارا سمجھتے تھے کہ طاقت بانٹنے والے جب طاقت دینا چاہیں گے توسندھ میں انھیں حصہ مل جائےگا تو پھر لوگوں کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔

سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست سے قبل پیر پگارا کی شخصیت سیاسی اہمیت کی حامل تھی۔

بھُٹو کے خلاف جب پی این اے تحریک شروع ہوئی تو صبغت اللہ صف اول میں تھے اور تحریک کے بعد جب جنرل ضیا اقتدار پر قابض ہوئےتو پیر پگارا ان کے قریبی رفقا میں شامل رہے۔

جنرل ضیا کے دورمیں سندھ میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک کے دوران پیر پگارا نےخود کو اس سےدور رکھا اور 1985 میں غیر جماعتی انتخابات ہوئے تو پیر پگارا کے ہی نامزد امیدوار محمد خان جونیجو کو وزارتِ عظمیٰ ملی۔

2008 میں فنکشنل لیگ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اقتدار میں شریک ہوئی
،تصویر کا کیپشن2008 میں فنکشنل لیگ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اقتدار میں شریک ہوئی

1988 کے عام انتخابات میں پیر پگارا نے پیپلز پارٹی کے امیدوار سید پرویز علی شاہ سے شکست کھائی اور پھر کبھی انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔

بینظیر حکومت کی برطرفی کے بعد سندھ میں پیر پگارا کے منظورِ نظر جام صادق کو نگران وزیراعلیٰ مقرر کیا گیا جو انتخابات کے بعد مستقل ہوگئے اور ان کے انتقال کے بعد فنکشنل لیگ کے حمایتی مظفر شاہ کو یہ منصب ملا۔

جنرل مشرف نے جب نواز شریف کا تختہ الٹا تو اس وقت فنکشنل لیگ حکومت میں شامل تھی اور بعد میں جنرل مشرف کے اقتدار کے آخری دنوں تک ان کے ساتھ رہی۔

2008 میں فنکشنل لیگ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اقتدار میں شریک ہوئی مگر 2012 میں کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں علیحدہ بلدیاتی نظام کا مسودہ پیش کیے جانے کےخلاف حکومت سے علیحدہ ہوگئی۔

یہ اقدام ایم کیوایم کے خلاف بھی تھا جس سے اندرون سندھ میں فنکشنل لیگ کو پذیرائی ملی اور قوم پرست جماعتوں نے بھی اس کی حمایت کی۔

جامی چانڈیو کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ فنکشنل لیگ نے اسمبلی کے اندر اور باہر ایک متحرک کردار ادا کیا جس سے محسوس ہوا کہ شاید اب وہ یہ کردار جاری رکھے مگر انتخابات سے پہلے وہ اپنی پرانی ڈگر پرچلی گئی۔

اب فنکشنل لیگ کی کمان پیر صبغت اللہ کے ہاتھ میں ہے

،تصویر کا ذریعہMLF

،تصویر کا کیپشناب فنکشنل لیگ کی کمان پیر صبغت اللہ کے ہاتھ میں ہے

فنکشنل لیگ کا کوئی واضح پروگرام یا منشور کبھی سامنے نہیں آیا۔ جامی چانڈیو کہتے ہیں کہ یہ کوئی ترقی پسند جماعت نہیں جس کے پاس سماجی پالیسی یا جدید خیال اور سوچ ہو، اور اس کی بنیاد نظریے یا منشور پر نہیں ’پِیر پرستی‘ پر ہے۔

تاہم امتیاز شیخ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی جماعت مکمل سیاسی جماعت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں ان کی جماعت کو اختیارات حاصل نہیں تھے اس کے باوجود جو بھی وزارتیں ملیں ان پر بھرپور کردار ادا کیا گیا اور اس سلسلے میں وہ مظفر شاہ اور جام صادق کے ادوار کا حوالہ دیتے ہیں۔

امتیاز شیخ فنکشنل لیگ کو پیپلز پارٹی کا متبادل قرار دیتے ہیں۔

ان کے مطابق ’گذشتہ انتخابات مسلم لیگ فنکشنل نے پہلی بار جماعت کے طور پر لڑے اور پورے سندھ سے امیدوار کھڑے کیے۔ اس الیکشن میں مسلم لیگ فنکشنل نے ساڑھے 22 لاکھ سے زیادہ ووٹ لیے۔‘

تجزیہ نگار ضمیر گھمرو کا کہنا ہے کہ فنکشنل لیگ کے سیاسی اور سماجی طور پر ترقی نہ کرنے کی وجہ مذہب اور سیاست کو ساتھ رکھنا ہے۔

ان کے مطابق اس جماعت کا زیادہ تر کنٹرول حُر جماعت کے پاس ہے جس کے باعث باقی لوگ خود فنکشنل لیگ کے قریب محسوس نہیں کرتے اسی لیے وہ سندھی عوام کی حمایت حاصل نہیں کر پائے ہیں۔

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بھی خیرپور کے ایک پولنگ سٹیشن پر جماعت کے متعدد کارکنوں کی ہلاکت کے بعد فنکشنل لیگ کے لیے ہمدردانہ جذبات ابھرے مگر وہ اُنھیں سیاسی حمایت میں تبدیل نہیں کر سکی۔

سانگھڑ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی ہوگئے جبکہ عمرکوٹ میں جہاں 2005 میں بلدیاتی انتخابات میں جماعت نے ضلعی حکومت بنائی تھی، اسے بری طرح شکست ہوئی جبکہ بدین میں مسلم لیگ فنکشنل نے اپنےحمایتی ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی جھولی میں ڈال دیے جو کہتے ہیں کہ وہ اگر نئی جماعت نہیں بنا سکےتو مسلم لیگ فنکشنل میں شامل ہو جائیں گے۔