پیپلز پارٹی کا ذوالفقار مرزا سے اظہارِلاتعلقی

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان پیپلز پارٹی نے سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارکنوں کا پارٹی قیادت کے نظریات کے ساتھ متفق ہونا اور اس کے نظم و ضبط کی پیروی کرنا ضروری ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلی بار ڈاکٹر ذاولفقار مرزا کے بیانات کا باضابطہ جواب دیا ہے۔ ایک لمبے عرصے کی خاموشی کے بعد ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے اپنے انٹرویوز میں سابق صدر آصف علی زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پارٹی اور سندھ حکومت کو اپنے کاروبار کی طرح چلا رہے ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے منگل کو کراچی میں ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو الزامات ماضی میں مخالفین پارٹی کی قیادت پر عائد کرتے تھے اس سے بھی گرے ہوئے الزامات پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے عائد کیے ہیں۔
’حالانکہ وہ خود کہتے یہ رہے ہیں کہ آج وہ جو کچھ بھی ہیں آصف علی زرداری کی وجہ سے ہیں۔‘
شرجیل انعام میمن نے کہا ’آپ اپنے ہی محسن پر الزامات لگا رہے ہیں جب ان کی بہن فریال تالپور محنت کرکے پارٹی کے مسائل حل کر رہی ہیں۔ عام لوگ اور عوامی نمائندے ان کے پاس جاتے ہیں، وہ خوش اسلوبی سے وقت دیتی ہیں۔ سندھ کی یہ روایت نہیں رہی کہ خواتین پر الزامات لگائے جائیں۔‘
شرجیل انعام میمن نے صنعت کار انور مجید کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ انور مجید اپنا کاروبار کرتے ہیں اور یہ کوئی جرم نہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ بیمار صنعتیں جو برس ہا برس سے بند تھیں انور مجید نے تمام قواعد و ضوابط کے مطابق وہ ملیں خرید لیں۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا لندن گئے ہوئے ہیں۔ روانگی سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ وہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے ملاقات کریں گے جبکہ گذشتہ شب پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول زرداری بھٹو نے سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’پیپلز پارٹی متحد ہے‘۔
ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی اہلیہ بیگم فہمیدہ مرزا موجودہ وقت رکن قومی اسمبلی اور بیٹا حسنین مرزا رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ جس پارٹی قیادت پر ڈاکٹر مرزا الزامات عائد کر رہے ہیں اسی کی وجہ سے ان کی فیملی میں دو ارکان اسمبلی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ذوالفقار مرزا کے کچھ ذاتی معاملات تھے تو پارٹی کے پلیٹ فارم پر بات کی جاسکتی تھی۔







