’ ذوالفقار مرزا کے بیان کی وضاحت کریں‘

فائل فوٹو، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا
،تصویر کا کیپشنپیر کو ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے نام لیے بغیر کراچی میں ٹارگٹ کلنگز کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو قرار دیا تھا

متحدہ قومی موومنٹ نے حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دس روز کے اندر صوبائی وزیرِ داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بیان کی وضاحت کریں بصورت دیگر ایم کیو ایم ملک بھر میں اپنے ذمہ داران سے حکومت میں شامل رہنے یا علیحدہ ہونے کے بارے میں رائے لینے میں آزاد ہوگی۔

بدھ کو حکمران اتحاد میں شامل دوسری بڑی جماعت کے فیصلہ ساز ادارے رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ اگر ایم کیو ایم کے خلاف صوبائی وزیر داخلہ کی اشتعال انگیز تقریر حکومتی پالیسی نہیں ہے تو صدر اور وزیر اعظم کی جانب سے اس کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے دو روز قبل کراچی چیمبر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نام لیے بغیر کراچی میں ٹارگٹ کلنگز کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو قرار دیا تھا۔

رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد صوبائی وزیر رضا ہارون نے سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی رہنما فیصل سبز واری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذولفقار مرزا کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور اس تقریر کو سندھ کے مستقل باشندوں میں نفرت پیدا کرنے اور سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔

رضا ہارون کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم سیاسی فیصلے جذبات کی بنیاد پر نہیں کرتی ہے، بلکہ ملک کے وسیع تر مفاد اور عوامی امنگوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے کرتی ہے۔

ان کے مطابق اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کی حکومت سے علیحدگی کو اس کا جمہوری حق قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت اتحادی جماعتوں کے ساتھ اتحادیوں جیسا سلوک کرے اور جمہوریت کے بہتر مستقبل کے لیے اتحادی جماعتوں میں پائے جانے والے تحفظات کو دور کرے۔

انہوں نے بتایا کہ دس محرم کے بعد ایم کیو ایم کا ایک وفد صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کر کے اس صورتحال سے آگاہ کرے گا۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم اور حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی میں یہ نیا محاذ رواں ہفتے پیر کو اس وقت کھلا جب صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کراچی چیمبر کی ایک تقریب میں جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور نام لیے بغیر اسے کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگز میں ملوث قرار دیا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ڈاکٹر مرزا کا کہنا تھا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ساٹھ ملزم گرفتار کیے گئے ہیں جن میں سے چھبیس کا تعلق کراچی کی سب سے بڑی جماعت سے ہے۔

گورنر ہاوس کے ایک اجلاس کا حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو باور کرایا تھا کہ کراچی میں سندھیوں، پنجابیوں، پٹھانوں اور بلوچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اگر یہ تمام فریق متحد ہوگئے تو پھر انہیں کسی کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

ذوالفقار مرزا جو صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ہیں کے اچانک اس موقف کو بعض مبصرین نے ایم کیو ایم کے لیے پیغام قرار دیا تھا اور اس کو ریفارمڈ جی ایس ٹی سے جوڑا جس کی ایم کیو ایم مخالفت کر رہی ہے۔

منگل کو جب جمعیت علماء اسلام نے حکومت سے علیحدگی کا اظہار کیا تو نیوز چینلز نے ایم کیو ایم کے حوالے سے بھی کئی چہ مگوئیاں شروع کردیں جو تمام ہی غلط ثابت ہوئیں۔