نبیل گبول کو کسی خطرے کی اطلاع نہیں: پولیس

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی پولیس نے سندھ ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ سابق رکن قومی اسمبلی نبیل گبول کی زندگی کو خطرات کے بارے میں کوئی بھی مصدقہ رپورٹ موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی سپیشل برانچ نے نبیل گبول کی زندگی کو خطرے کے بارے میں کوئی الرٹ جاری کیا ہے۔
جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں ڈویزن بینچ کو منگل کے روز سپیشل برانچ کے ایڈیشنل آئی جی، اے ڈی خواجہ نے بتایا ہے کہ پولیس زون ٹو کی جانب سے نبیل گبول کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے اگر انھیں مزید سکیورٹی درکار ہے تو متعلقہ تھانےسے رجوع کرنا چاہیے۔
اس موقعے پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نبیل گبول کی سکیورٹی کے لیے چار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ نے ایڈیشنل آئی جی کی رپورٹ پر نبیبل گبول سے موقف طلب کر لیا اور سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
نبیل گبول کا موقف ہے کہ کچھ ماہ قبل قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کے بعد ٹی وی ٹاک شوز میں انھوں نے کراچی آپریشن رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدام کی حمایت کی تھی جس کے بعد سے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔
نبیل گبول نے درخواست میں مزید کہا ہے کہ انھیں مختلف طریقوں سے دھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن اس کے باوجود سندھ حکومت نے ان سے سکیورٹی واپس لے لی ہے، انھیں رینجرز کی سکیورٹی فراہمی کی جائے۔
یاد رہے کہ نبیل گبول پاکستان پیپلز پارٹی سے مستعفی ہونے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ میں شامل ہوئے تھے اور ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے لیکن یہ سلسلہ صرف چند ماہ تک چل سکا اور وہ اسمبلی کی رکنیت اور پارٹی سے مستعفی ہوگئے۔
دوسری جانب سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کے بھائی عامر العباد نے ایم کیو ایم کے سابق صوبائی وزیر رؤف صدیقی سمیت تین رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس درخوست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انھوں نے شمسی توانائی فراہم کرنے کے لیے بطور کنٹریکٹر کام کیا تھا، جس کی مد میں یونیورسٹی کی طرف ان کے سات لاکھ کینیڈین ڈالر بقایاجات ہیں، جن کا تقاضا کرنے پر رؤف صدیقی اور دیگر انھیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔







