اناج کا ذخیرہ ملبے تلے دبنے سے زلزلہ متاثرین مشکلات سے دوچار

 سماجی کارکن فضل مالک کا کہنا ہے کہ علاقے میں اشیا خورد و نوش اور ادویات کی شدید قلت ہے لوگوں کے گھر تباہ ہوگئے ہیں
،تصویر کا کیپشن سماجی کارکن فضل مالک کا کہنا ہے کہ علاقے میں اشیا خورد و نوش اور ادویات کی شدید قلت ہے لوگوں کے گھر تباہ ہوگئے ہیں

محمد زلفان کا تعلق خیبر پختونخواہ کے ضلع شانگلہ کے علاقے رونیال سے ہے وہ حالیہ زلزلے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نہ صرف پریشان ہیں بلکہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے زندہ رہنے کے لیے موسم سرما کے چھ ماہ کے لیے جمع کیے ہوئے اناج کے ذخیرے کو مکان کے ملبے میں تلاش کررہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد زلفان نے بتایا ’ کہ ہمارےگاؤں میں نومبر سے مارچ کے آخر تک موسم شدید سرد ہوتا ہے اور اس دوران چھ فٹ تک برف بھی پڑتی ہے جس سے آمدورفت کے تمام ذرائع شدید متاثر ہوتے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’رابطہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے علاقے میں خوراک کا سامان پہنچانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ گاؤں کے بیشتر لوگ گرمیوں کے چھ ماہ بلوچستان کے علاقے میں کوئلے کی کان میں مزدوری کرتے ہیں اور اس مزدوری کے پیسوں سے اپنے اہل و عیال کے لیے چھ ماہ کا اناج خرید لیتے ہیں تا کہ خون جما دینے والی شدید سردی میں وہ پرسکون رہیں۔

اسی گاؤں کہ ایک اور رہائشی محمد فیاض بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار نظر آتے ہیں۔ان کا پانچ کمروں پر مشتعمل گھر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ہے اور وہ ملبے کے اس ڈھیر کے قریب ہی لگے خیمے میں بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے ان کا تمام کھانے پینے کا سامان ملبے تلے دبا ہوا ہے جبکہ گھر میں موجود 20 ہزار روپے بھی ملبے کے نیچے دب چکے ہیں جس کو نکالنے کے لیے وہ اور ان کے چھوٹے بچے دن رات محنت کررہے ہیں۔

محمد فیاض نے بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے ان کا تمام کھانے پینے کا سامان ملبے تلے دبا ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنمحمد فیاض نے بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے ان کا تمام کھانے پینے کا سامان ملبے تلے دبا ہوا ہے

علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے متاثرین کو کوئی خوراک کی اشیا مہیا نہیں کی ہیں اور یہاں کے لوگوں کا چھ ماہ کا اناج بھی تباہ ہوگیا ہے جس سے وہ شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

گاؤں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ منتخب نمائندے ووٹ کے لیے تو ان کے پاس آتے ہیں لیکن مصیبت کی اس گھڑی میں ان کا حال کسی نے پوچھا ہی نہیں، وہ چھت کے بغیر زندہ تو رہ سکتے ہیں لیکن خوراک کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں۔ لہذا حکومت ان کے لیے برف باری شروع ہونے سے پہلے اناج کا بندوبست کرے۔

اس قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے ایک اور شخص صاحب زادہ نے بتایا کہ اب وہ مزدوری کے لیے بھی نہیں جاسکتے کیونکہ وہ بیوی بچوں کو خیمے میں کس کے سہارے چھوڑ کر جائیں۔

یونین کونسل رانیال کے سماجی کارکن فضل مالک کا کہنا ہے کہ علاقے میں اشیا خورد و نوش اور ادویات کی شدید قلت ہے لوگوں کے گھر تباہ ہوگئے ہیں اور لوگ اناج کی فکر میں گھروں کی تعمیر بھی بھول گئے ہیں۔

ان کے مطابق پہاڑ کے چوٹیوں پر رہنے والے یہ لوگ اس شدید سردی میں کبھی اوپر اور کبھی نیچے رہنے والوں کی طرف امداد کے لیے دیکھتے ہیں۔