زلزلے کے جعلی متاثرین کے خلاف کارروائی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سید انور شاہ
- عہدہ, سوات
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکام کے مطابق صوبے بھر میں ایک ہزار سے زائد جعلی متاثرینِ زلزلہ کی نشاندہی کے بعد ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق غیر مستحق افراد کے امدادی رقوم اور سامان لینے پر ان کے خلاف این ڈی ایم اے ایکٹ کے تحت کاروائی کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جعلساز متاثرین کوگرفتار کر کے انہیں جیل بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جبکہ بعض علاقوں میں جعلی متاثرین کی مدد کرنے پر علاقے کے پٹواریوں کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
حالیہ زلزلے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ضلع شانگلہ میں انتظامیہ نے تصدیق کے بعد غیر مستحق افراد کے امدادی رقوم کےچیک بلاک کر دیے ہیں۔
اس حوالے سے ضلع شانگلہ کے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر جاوید اقبال نے بتایا کہ ضلع کے مختلف علاقوں سے جعلسازی میں ملوث غیر مستحق افراد کے مقدمے سماعت کے لیے عدالتوں میں بھیج دیے گئے ہیں اور انھیں دو سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں اصلی اور جعلی متاثرین کی شناخت اور تحقیقات کے لیے چار ٹیمیں ترتیب دی ہیں جو متاثرہ علاقوں میں جا کر تحقیقات کر رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تھانہ چکیسر کے پولیس اہلکار قریب اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ چکیسر میں 22 جعلی متاثرین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جن میں آٹھ کوگرفتاری کے بعد جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
سوات کے علاقے بحرین میں بھی تین خواتین سمیت 12 غیر مستحق متاثرین کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ بریکوٹ میں بھی جعلی متاثرین سے ریکوری کی گئی ہیں اور ایک پٹواری کو معطل کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شانگلہ کے ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جعلی متاثرین کو یہ کہا گیا ہے کہ اگر وہ خود چیک واپس کر دیں تو ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔
واضح رہے کہ 26 اکتوبر کے زلزلے میں 232 افراد ہلاک جبکہ 1534 زخمی ہوگئے تھے۔ زلزلے سے 93 ہزار سے زائد مکانات اور سکولوں سمیت 562 سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔







