پاکستان میں کان کنی موت کا سبب کیوں؟
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شانگلہ
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے گاؤں پورن کے باشندے پیندازر ایک ٹانگ سے معزور ہیں۔ ان کے دو جوان بیٹے چند ماہ قبل کوئلے کی کان میں کام کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔
دو بیٹے گنوانے کے باوجود بھی پیندازر نے اپنے دیگر بیٹوں کو اس خطرناک کام سے نہیں روکا بلکہ ان کے دو اور بیٹے آج بھی کوئلے کی کانوں میں ہی کام کرتے ہیں۔
ایک چھوٹے سے کچے مکان میں رہائش پزیر پیندازر کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم ہے کہ کوئلے کی کانوں میں کام کرنا موت سے کھیلنے کے مترادف ہے اور ان کے بیٹوں کی زندگی بھی خطرے میں ہے لیکن وہ کیا کر سکتے ہیں مجبوراً پیٹ کی خاطر ایسا کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا ’ شانگلہ ایک پہاڑی علاقہ ہے، یہاں روزگار کے اور کوئی ذرائع نہیں، مجبور اور لاچار لوگ کوئلے کی کانوں میں کام نہیں کریں گے تو کھائیں گے کیا؟۔‘
پیندازر نے کہا کہ وہ خود بھی کوئلے کی کانوں میں کام کر چکے ہیں جو کہ انتہائی مشکل اور خطرناک کام ہے جس میں ہر وقت جان کا خطرہ رہتا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ’ کوئلے کی کانوں میں کام کرنا شانگلہ کے لوگوں کی ایک رویت سی بن گئی ہے کیونکہ اس سخت کام میں ہمارے لوگ زیادہ ماہر بھی ہیں اور دیگر علاقوں کے مقابلے میں ان کی تعداد بھی زیادہ ہے۔‘
ان کے بقول کان کنی مشکل ضرور ہے لیکن اس پیشے میں پیسہ دیگر کاموں کے مقابلے میں کسی حد تک زیادہ ہے اسی وجہ سے پہاڑی علاقوں کا مزدور طبقہ یہی کام کرتا ہے۔
تقربباً پانچ لاکھ کی آبادی پر مشتمل وادی شانگلہ زیادہ تر پہاڑی دیہات پر مشتمل ہے۔ علاقے کی اکثریتی آبادی سرسبز پہاڑی وادیوں میں رہتی ہے جو مرکزی سڑک سے کافی دور واقع ہے۔ اس ضلع میں ایسے دیہات شامل ہیں جو پہاڑ کی چوٹیوں پر واقع ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
علاقے کے زیادہ تر غریب نوجوان کان کنی جیسے مشکل اور جان لیوا پیشے سے وابستہ ہیں۔
شانگلہ میں خود کوئلے کی کوئی کان نہیں ہے البتہ یہاں کے باشندے سینکڑوں کلومیٹر دور سفر کرکے ملک کے مختلف صوبوں بلوچستان، پنجاب، سندھ اور قبائلی علاقوں میں کام کےلیے جاتے ہیں۔
کوئلے کی کانوں میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات وہاں گیس بھر جانے یا کان گرنے جیسے واقعات پیش آتے رہے ہیں جس کی وجہ سے مزدور لقمہ اجل بھی بن جاتے ہیں۔
شانگلہ میں ایسے گاؤں بھی ہیں جہاں ہر دوسرے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد کوئلے کی کان میں کام کے دوران ہلاک ہو چکا ہے۔
اس ضلع کے دو علاقے پورن اور صدر مقام الپوری ایسے مقامات ہیں جہاں کے زیادہ تر باشندے کوئلے کی کانوں میں کام کرتے ہیں اور یہاں مرنے والے غریب نوجوانوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔
شانگلہ ایک انتہائی پسماندہ ضلع بھی سمجھا جاتا ہے۔ تعلیم کی کمی اور غربت دو ایسی بنیادی وجوہات ہیں جو نوجوانوں کو کوئلے کی کان کی شکل میں بنے موت کے کنوؤں کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

مزدوروں کو گروپ کی شکل میں لے جانے والے شانگلہ کے ایک ٹھکیدار عمر زیب کا کہنا ہے کہ ان کی کوئی لیبر یونین نہیں ہے اور کوئلہ مالکان ان کو یونین بنانے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔
انھوں نے کہا کہ کانوں میں حفاظتی انتظامات کا کوئی وجود نہیں اور مزدور روایتی طریقوں سے کھدائی کرتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر اوقات کانوں کے اندر حادثات پیش آتے ہیں۔
ان کے مطابق ’ کوئی مزدور اپنے حق کےلیے آواز بلند نہیں کرسکتا اور اگر کوئی اس طرح کرتا بھی ہے تو مالک اسے فورًا نوکری سے فارغ کردیتا ہے۔‘ انھوں نے مزید بتایا کہ ایک کان کن پورے مہینے میں زیادہ سے زیادہ کام کی صورت میں بھی اوسطً 16 سے 18 ہزار روپے بناتا ہے اور زیادہ تر کان کن اپنے خاندانوں کی واحد کفیل ہیں۔
ٹھکیدار کے مطابق علاقے کے عوامی نمائندے ہر الیکشن میں وعدے تو بڑے کرتے رہیں لیکن اس ضمن میں عملی اقدامات نہیں اٹھائےگئے ہیں۔







