صوابی میں پولیو ٹیم کے رابطہ کار پر حملہ، دو افراد ہلاک

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت دیگر شہروں میں بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات معمول سے پیش آ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت دیگر شہروں میں بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات معمول سے پیش آ رہے ہیں
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے انسدادِ پولیو مہم کے رابطہ کار ڈاکٹر یعقوب اور ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کر دیا۔

صوابی میں پیر کی صبح انسدادِ پولیو مہم کے رابطہ کار ڈاکٹر یعقوب اپنی گاڑی میں ڈرائیور کے ہمراہ قریبی گاؤں شاہ منصور جا رہے تھے۔

صوابی پولیس کے اہلکار امجد خان کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے ڈاکٹر یعقوب پر پوٹھوہار نہر کے قریب فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ڈاکٹر یعقوب موقع پر دم توڑ گئے جبکہ ان کے ڈرائیور اس حملے میں زخمی ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر یعقوب کو سر پر گولیاں ماری گئیں جبکہ ڈرائیور کو ہاتھ پر گولی لگی۔

پشاور میں انسدادِ پولیو حکام کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے کیونکہ بظاہر ڈاکٹر یعقوب کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور وہ انتہائی خوش مزاج انسان تھے۔

خیبر پختونخوا میں اس ماہ کے اوائل میں انسدادِ پولیو کی مہم شروع کی گئی تھی جس میں تقریباً 25 لاکھ افراد کو اس مرض سے بچاؤ کے قطرے دینے کا حدف رکھا گیا تھا لیکن حالیہ دنوں میں ایسا کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔

انسدادِ پولیو مہم کے حکام کا کہنا تھا کہ صوابی میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر نہیں ہے۔

اس کے علاوہ صوابی میں ہی ٹھنڈ کھوئی کے قریب نا معلوم افراد نے پولیس کے رائیڈر سکواڈ پر فائرنگ کی جس میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

پولیس کے مطابق رائیڈر سکواڈ کے اہلکار معمول کی گشت پر تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار دو نا معلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی اور اس دوران وہ خود بھی موٹر سائیکل سے گر گئے جس کے بعد وہ موٹر سائیکل چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت دیگر شہروں میں بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات معمول سے پیش آ رہے ہیں۔

چند روز پہلے پشاور میں ایک شیعہ رہنما کو نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔