کوئٹہ میں پولیو کارکنوں پر حملے میں چار ہلاک

پاکستان میں پولیو کے انسداد کے لیے جاری مہم میں شامل کارکن شدت پسندوں کا ہدف رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں پولیو کے انسداد کے لیے جاری مہم میں شامل کارکن شدت پسندوں کا ہدف رہے ہیں
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انسدادِ پولیو مہم کے کارکنوں پر حملے میں تین خواتین سمیت چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

تھانہ سریاب کے ایس پی عمران قریشی کے مطابق یہ حملہ بدھ کی صبح شہر کے مشرقی بائی پاس پر کیا گیا۔

پولیس افسر کے مطابق یہ کارکن ایک ویگن میں سوار تھے اور مہم کے لیے رپورٹ کرنے شہر آ رہے تھے کہ ان پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی۔

ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے دو خواتین کارکن موقعے پر ہی ہلاک ہوگئیں جبکہ ایک خاتون اور مرد نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔

امدادی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں بھی دونوں خواتین ہی ہیں جنھیں سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

عمران قریشی کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب رہے اور اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

تاحال کسی تنظیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے لیکن پاکستان میں پولیو کے انسداد کے لیے جاری مہم میں شامل کارکن شدت پسند تنظیموں کا ہدف رہے ہیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں رواں سال پولیو کے 12 نئے مریض سامنے آ چکے ہیں۔

پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے اور عالمی ادارۂ صحت نے اسے دنیا سے پولیو کے خاتمے کے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔

اس سال کے اوائل تک بلوچستان میں حکام یہ دعویٰ کرتے رہے کہ بلوچستان پولیو فری ہوگیا ہے لیکن گذشتہ تین چار مہینوں سے ایک بار مرتبہ پھر پولیو کے کیسز سامنے آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثر ہونے والے بچوں میں زیادہ تر کے والدین نے ان کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا تھا۔

بلوچستان کے 11 اضلاع میں دس نومبر سے 12 نومبر تک پولیو کے خلاف خصوصی مہم چلائی گئی تھی۔ اس مہم کے دوران 13 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2012 سے اب تک پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملوں میں 60 سے زیادہ ہیلتھ ورکر اور انھیں تحفظ فراہم کرنے والے پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔