بلوچستان میں پولیو کا نیا کیس

حکومتِ بلوچستان نے رواں ماہ پولیو کے خلاف مہم کے دوران 13 لاکھ بچوں کو تک رسائی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنحکومتِ بلوچستان نے رواں ماہ پولیو کے خلاف مہم کے دوران 13 لاکھ بچوں کو تک رسائی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پولیو کے ایک اور کیس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد بلوچستان میں پولیو کے کل کیسز کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔

پولیو کے نئے کیس کی تصدیق افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع قلعہ عبد اللہ میں ہوئی ہے۔

محکمہ صحت بلوچستان کے ذرائع کے مطابق اس ضلع میں پولیو سے متاثر ہونے والی ایک بچی ہے جس کی عمر 18ماہ ہے ۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ متاثر ہونے والی بچی کو اس کے والدین نے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا تھا۔

اس سال کے اوائل تک بلوچستان میں حکام یہ دعویٰ کرتے رہے کہ بلوچستان پولیو فری ہوگیاہے لیکن گزشتہ تین چار مہینوں سے ایک بارمرتبہ پھر پولیو کے کیسز سامنے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثر ہونے والے بچوں میں زیادہ تر کے والدین نے ان کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا تھا۔

بلوچستان کے وزیر صحت رحمت بلوچ کا کہنا ہے کہ ’ان کیسوں کے حوالے سے جو تحقیق ہوئی ہے اس کے مطابق زیادہ سے زیادہ چیلنج انکار کا ہے۔‘

بلوچستان کے 11اضلاع میں 10 نومبر سے 12 نومبر تک پولیو کے خلاف خصوصی مہم چلائی گئی تھی۔ اس مہم کے دوران 13 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ پانچ نومبر کو وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں منعقد ہونے والے اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نےاس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ چھ ماہ میں ملک سے پولیو کو ختم کر دیں گے۔ تاہم ایک روز بعد یہ کہہ کر اس بیان کو واپس لے لیا گیا کہ وزیراعظم نے ایسی کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی۔

حکومت کے مطابق جاپان پولیو کے خاتمے کےلیے پاکستان کو 55 کروڑ روپے فراہم کرے گا جبکہ بل اینڈ میلنڈ ا گیٹس فاؤنڈیشن پولیو کے خاتمے کے لیے 37 ارب روپے دیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں اب تک اس سال پولیو کے کل کیسوں کی تعداد 239 ہوگئی ہے۔ یہ تعداد گذشتہ ایک دہائی میں سب سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پائے جانے پولیو کیسوں میں سے 80 فیصد پاکستان میں ہیں۔