باجوڑ: پولیو ٹیم پر حملہ، لیوی اہلکار ہلاک

پولیو رضاکاروں پر حملوں کی وجہ سے ان کی حفاظت سکیورٹی اہلکار کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپولیو رضاکاروں پر حملوں کی وجہ سے ان کی حفاظت سکیورٹی اہلکار کرتے ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیو کارکنوں پر مسلح افراد کے حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔

باجوڑ ایجنسی کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی صبح صدر مقام خار سے تقریباً دس کلومیٹر دور ڈمہ ڈولہ کے علاقے میں پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ کارکن بچوں کو قطرے پلارہے تھے کہ اس دوران قریبی کھیتوں سے ان پر فائرنگ کی گئی جس سے ایک لیوی اہلکار موقعے ہی پر ہلاک ہوگیا تاہم حملے میں پولیو کے قطرے پلانے والے کارکن محفوظ رہے ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ لیوی اہلکار پولیو کارکنوں کی حفاظت پر مامور تھا، اور حملہ ایسے وقت کیا گیا جب پولیو رضاکار قطرے پلانے کے بعد پیدل جا رہے تھے۔

سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ پیر سے باجوڑ ایجنسی میں پولیو کے خلاف مہم کا آغاز کیا گیا تھا اور آج اس کا تیسرا دن تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ باجوڑایجنسی میں اس سے پہلے بھی پولیو کے کارکنوں پر حملے کیے جا چکے ہیں جن میں ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔

خیال رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں گذشتہ دو سال کے دوران پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان میں رواں سال کے دوران اب تک پولیو کے 138 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق قبائلی علاقوں سے ہے۔

قبائلی علاقوں میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے پر پابندی اور کارکنوں پر حملوں کے باعث اس جان لیوا مرض پر قابو نہیں پایا جا رہا۔