کالعدم تنظیموں سے وابستہ سات افراد گرفتار، 20 کروڑ روپے برآمد

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے سات مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کر کے اُن کے قبضے سے 20 کروڑ روپے سے زائد رقم برآمد کی ہے جو اُنھیں ہنڈی کے ذریعے مختلف ملکوں سے بھجوائی گئی تھی۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے افراد کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے ہے اور ان افراد کو صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد، لیہ، گجرات اور سیالکوٹ سے گرفتار کیا گیا ہے۔
<link type="page"><caption> کالعدم تنظیمیں عیدالاضحیٰ کے دوران متحرک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/11/111110_banned_organizations_eid_tf" platform="highweb"/></link>
اہلکار کے مطابق ان افراد کی گرفتاری ہنڈی کے کاروبار میں ملوث دو افراد کی گرفتاری کے بعد عمل میں لائی گئی ہے جنھیں ایف آئی اے کے حکام نے فیصل آباد اور گجرات سے گرفتار کیا تھا۔
اہلکار کے مطابق افراد سے جو ابتدائی تفتیش ہوئی ہے اس میں اُنھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اُنھیں محرم الحرام اور اس کے بعد بھی صوبہ پنجاب کے بڑے شہروں میں شدت پسندی کی کارروائیاں کرنی تھی اور یہ رقم اسی کاموں میں استعمال ہونا تھی جس میں خودکش حملہ آوروں کے اہل خانہ کو پیسے دینے کے ساتھ ساتھ اسلحہ اور بارودی مواد بھی خریدا جانا تھا۔
اہلکار کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ان افراد کو ہنڈی کے ذریعے خصوصی کوڈ دے کر 20 کروڑ سے زائد کی رقم بھجوائی گئی تھی اور اس رقم میں سے زیادہ حصہ دوبئی، جنوبی افریقہ اور کینیا سے بھجوایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اہلکار کے مطابق ابھی تک زیر حراست ملزمان نے رقوم بھجوانے والے افراد کے نام نہیں بتائے ہیں، تاہم اُن کا کہنا ہےکہ وہ ان افراد کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اُنھیں تو مقامی قیادت کی طرف سے اطلاع دی گئی تھی کہ فلاں بندے سے جاکر پیسے لے لو۔
وفاقی حکومت کی طرف سے شدت پسندی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کے بینک اکاونٹ منجمد کرنے کے بعد ان تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد غیر قانونی طریقوں سے رقم منگواتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کی سپریم کورٹ نے نیشنل ایکشن پلان کے بارے میں ریمارکس دیے تھے کہ کالعدم شدت پسند تنظیموں کے لیے بیرونی امداد شہ رگ کی حثیت رکھتی ہے اور ان کی شہ رگ کاٹ دی جائے تو یہ تنظیمیں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔







