کالعدم تنظیمیں عیدالاضحیٰ کے دوران متحرک

کھالیں اکٹھی کرنے والی کالعدم تنظیموں میں جماعتِ الدعواۃ کے علاوہ ملتِ اسلامیہ پاکستان، عاشقانِ صحابہ، غازی فورس، پاکستان اسلامی تحریک شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکھالیں اکٹھی کرنے والی کالعدم تنظیموں میں جماعتِ الدعواۃ کے علاوہ ملتِ اسلامیہ پاکستان، عاشقانِ صحابہ، غازی فورس، پاکستان اسلامی تحریک شامل ہیں۔
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وفاقی حکومت کی طرف سے کالعدم تنظیموں پر پابندی عائد کیے جانے کے باوجود عیدالاضحیٰ پر ان تنظیوں کے ارکان مختلف علاقوں میں جاکر قربانی کے جانوروں کی کھالیں اکھٹی کرتے رہے ہیں۔

مقامی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ابھی تک اس ضمن میں کوئی گرفتاری بھی عمل میں نہیں لائی گئی۔

خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے وزارتِ داخلہ کو بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عیدالاضحٰی کے تینوں روز کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے قربانی کے جانوروں کی کھالیں اکھٹی کرنے کے لیے نہ صرف پمفلٹ تقسیم کیے بلکہ گھروں میں جاکر بھی کھالیں اکٹھی کرتے رہے۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع نے بی بی س کو بتایا کہ سویلین خفیہ اداروں کی طرف سے بھیجی جانے والی ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کھالیں اکٹھی کرنے والی کالعدم تنظیموں میں جماعتِ الدعوۃ کے علاوہ ملتِ اسلامیہ پاکستان، عاشقانِ صحابہ، غازی فورس، پاکستان اسلامی تحریک اور دیگر جماعتیں بھی شامل ہیں جبکہ دیگر کالعدم تنظیموں نے اپنے نام تبدیل کرکے مختلف فلاحی تنظیموں کے نام پر قربانی کے جانوروں کی کھالیں اکٹھی کرتے رہے ہیں۔

ان تنظیموں کے ارکان صوبہ سندھ میں آنے والے حالیہ سیلاب کے متاثرین کی امداد کے لیے قربانی کے جانوروں کی کھالیں اکھٹی کرنے کے علاوہ ان افراد کے لیے اجتماعی قربانی دینے کے لیے لوگوں سے چندہ بھی وصول کرنے کے بارے میں وزارت داخلہ کو لکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں پاکستان میں گرفتار ہونے والے سات ملزمان میں سے پانچ کا تعلق کالعدم تنظیم جماعت الدوعواۃ سے بتاتے ہیں۔ ان ملزمان میں زکی الرحمن لکھوی بھی شامل ہیں جنہیں بھارتی حکومت پہلے ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتی تھی۔

خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق کالعدم تنظیموں کی طرف سے قربانی کے جانوروں کی کھالیں اکھٹی کرنے کے زیادہ تر واقعات پنجاب اور خیبر پختون خوا کے بڑے شہروں میں ہوئے ہیں۔ ان میں لاہور، فیصل آباد، بہاولپور، جھنگ، گوجراانوالہ، پشاور، مردان، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں جبکہ کراچی میں بھی کچھ مقامات پر ان تنظیموں کی جانب سے کھالیں اکھٹی کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ان تنظیموں کی جانب سے قربانی کے جانوروں کی کھالیں جمع کرنے کی مختلف جہگوں پر سینٹرز بھی قائم کیے گئے تھے جہاں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار گشت بھی کرتے تھے لیکن کسی نے بھی ان تنظیموں کے ارکان کو ایسا کرنے سے نہیں روکا۔

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے میں بھی کالعدم تنظیموں کی جانب سے قربانی کے جانوروں کی کھالیں جمع کرنے کے بارے میں وزارتِ داخلہ کو آگاہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ وزارتِ داخلہ نے عیدالاضحٰی پر کالعدم تنظیموں کی جانب سے قربانی کے جانوروں کی کھالیں اکھٹی کرنے پر پابندی عائد کی تھی اور اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی گئیں تھیں کہ وہ ایسا کرنے والی کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے فوجداری دفعات کے تحت مقدمات درج کریں۔