کالعدم تنظیمیں، دل و دماغ جیتنے کا مشن

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان میں زلزلے کے بعد سیلابی صورتحال میں بھی مذہبی جماعتوں کا فلاحی کردار ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ان تنظیموں میں چند ایسی بھی جماعتیں ہیں جن پر حکومت نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ لیکن یہ تنظیمیں امدادی کاموں کے ذریعے لوگوں کا دل و دماغ جیتنے کے مشن میں مصروف ہیں۔

جماعت الدعوۃ سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کام کر رہی ہے اور اس تنظیم کے تین ہزار سے زائد رضاکار فلاحی کام میں مصروف ہیں۔

ممبئی حملوں کے بعد اقوام متحدہ نے جماعت الدعوۃ پر پابندی عائد کردی تھی اور تنظیم کے سربراہ حافظ سعد نظر بند بھی رہے۔

جماعت الدعوۃ کے ترجمان یحیٰ مجاہد نے پنجاب کے شہر مظفر گڑھ سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فلاحی تنظیم ’فلاح انسانیت‘ کی جانب سے تیرہ کے قریب ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں لوگوں نے اپنے طور پر انتظام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلاحی کاموں کا مرکز پنجاب ہے جہاں ان کے رضاکار نہ صرف ریلیف کی فراہمی کر رہے ہیں بلکہ ٹریفک کا نظام سنبھالنے اور بند روڈ کھولنے میں بھی شریک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری جگہوں کا تو انہیں پتہ نہیں مگر یہاں حکومتی مشنری نظر نہیں آرہی۔

یحیٰ مجاہد نے بتایا کہ انہوں نے ٹریکٹر ٹرالیاں حاصل کی ہیں جن کی مدد سے جہاں سڑک خراب ہے وہاں سے لوگوں کو نکالا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ماہی گیروں سے کشتیاں لی گئی ہیں جن کی مدد سے دریائے سندھ کے کناروں پر پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے فلاحی ادارے ’فلاح انسانیت‘ کی جانب سے جو تیرہ کے قریب ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں وہاں فوڈ اسٹال لگائے گئے ہیں جبکہ دیگر متاثرین کو پکا ہوا کھانا فراہم کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ سولہ موبائل طبی یونٹ بھی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو ریلیف پہنچا رہے ہیں۔

مذہبی جماعتوں کی زیادہ تر توجہ کا مرکز جنوبی پنجاب اور صوبہ خیر پختونخوا کا متاثرہ علاقہ نظر آتا ہے۔

کالعدم سپاہ صحابہ بھی رفاعی کام میں شریک ہے۔ تنظیم کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانونی کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار پانچ میں آنے والے زلزلے کے دنوں میں بھی انہوں نے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے کی کوشش کی تھی مگر انہیں ریلیف کے سامان کے بارہ ٹرکوں سمیت گرفتار کرلیا گیا تھا۔

’ہم سیاست نہیں کر رہے اور شہرت میں بھی دلچسپی نہیں رکھتے نہ یہ چاہتے ہیں کہ ہماری کوئی تصاویر بنائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک آفت ہے جس میں تمام پاکستانیوں کا فرض بنتا ہے کہ اپنا کردار ادا کریں۔ جس کی وجہ سے ہم نے اپنے کارکنوں کو حکم دیا ہے کہ وہ فلاحی کاموں میں سرگرم ہوجائیں مگر اپنی شناخت ظاہر نہ کریں۔‘

کراچی میں حالیہ ہنگامہ آرائی اور ہلاکتوں کا ذمہ دار وفاقی وزیر رحمان ملک نے سپاھ صحابہ کو قرار دیا تھا، جسے مولانا لدھیانوی مسترد کرچکے ہیں۔

مولانا لدھیانوی نے بتایا کہ ان کے ہزاروں کارکن لوگوں کی سیلابی پانی سے نکالنے میں مدد کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں اور بے گھر لوگوں کو خوراک بھی پہنچائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ان کی زیادہ تر سرگرمیاں جھنگ، لیہ اور مظفر گڑھ میں ہیں جبکہ پشاور اور نوشہرہ میں بھی کارکن پہنچ رہے ہیں۔

فلاحی کاموں میں سرگرم مذہبی جماعتوں کے چندے اور عطیات کا سب سے بڑا ذریعہ کراچی شہر ہے جو پچھلے دنوں ہنگامہ آرائی کی جکڑ میں رہا۔

فلاحی کاموں میں سرگرم ایک اور تنظیم معمار ٹرسٹ ہے۔ یہ تنظیم زیادہ تر خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں سرگرم ہیں جہاں ان کے مطابق حکومتی ادارے نہیں پہنچے۔ ان علاقوں میں لوئر دیر، بالا دیر، شانگلا، کبل، چارسدہ اور نوشہرہ شامل ہیں۔

ٹرسٹ کے ایک اہلکار محمد لائق کا کہنا ہے کہ جو لوگ بے گھر ہوجاتے ہیں، سروے کے بعد فی خاندان کو ایک خیمہ فراہم کیا جاتا ہے جبکہ جن کے گھر موجود ہیں انہیں راشن کی فراہمی کی جارہی ہے۔

ان اسلامی فلاحی اداروں کی جانب سے عطیات اور چندے کی اشتہارات ان اخبارات میں شائع ہوتے ہیں جن کے بارے میں یہ خیال عام ہے وہ مذہبی رجحان رکھتے ہیں۔