ڈینگی سے جنگ موبائل فون کے ذریعے

ڈینگی ایپ
،تصویر کا کیپشناس ایپ کے ذریعے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس علاقے میں وبا پھوٹنے کا خطرہ ہے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں ڈینگی وبا کے پھیلاؤ کے خلاف جنگ ہسپتالوں کی بجائے اب موبائل فونز کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔

پچھلے چار سالوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے یہ جنگ زیادہ موثر انداز میں کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

پاکستان میں چار برس قبل ڈینگی بخار ایک خوفناک وبا کے طور پر سامنے آیا تھا اور ملک کے سب سے بڑے صوبے کے دارالحکومت لاہور میں اس وبا کے پھوٹنے کے چند ماہ کے دوران ہی 20 ہزار سے زائد افراد اس سے متاثر ہوئے تھے اور ان میں سے ساڑھے تین سو سے زائد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سال ایک بار پھر یہ وبا پنجاب ہی کے شہر راولپنڈی میں سر اٹھا رہی ہے، لیکن پنجاب حکومت میں انسداد ڈینگی کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس بار اس مرض کے پھیلنے اور شدت اختیار کرنے کے امکانات کم ہیں۔

اس کی ایک وجہ وہ موبائل فون ایپ ہے جس کے ذریعے ڈینگی کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کو مانیٹر کیا جاتا ہے بلکہ اس کے ذریعے اکٹھے ہونے والے اعداد و شمار کا تجزیہ کر کے اس وبا کے بارے میں پیشگی اطلاعی نظام (ارلی وارننگ سسٹم) کو بھی موثر بنایا جاتا ہے۔

اس موبائیل فون ایپلیکیشن کے ذریعے ڈینگی کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے
،تصویر کا کیپشناس موبائیل فون ایپلیکیشن کے ذریعے ڈینگی کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے

’ڈینگی ٹریکنگ سسٹم‘ نامی اس موبائل فون ایپ بنانے والے ادارے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر عمر سیف کہتے ہیں کہ ڈینگی وبا کی پیشگی اطلاع حاصل کرنا اس ایپلیکیشن کا اہم ترین فیچر ہے۔

’یہ ایپلیکشن اپنے نظام کے ذریعے حاصل کے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کر کے ہمیں پیشگی وارننگ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے کہ فلاں علاقے میں اس وبا کے پھوٹ پڑنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ اس ایپلیکشن کا یہ فیچر اس وبا کو قابو میں رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔‘

اس ایپلیکشن کے کام کرنے کے طریقے کے بارے میں پنجاب ٹیکنالوجی بورڈ کی مدیحہ خان نے بتایا کہ انسداد ڈینگی پروگرام میں شامل چار ہزار کارکنوں کو اس ایپلیکشن کے ساتھ کام کرنے والے موبائل فونز دیے گئے ہیں۔ یہ لوگ ڈینگی کے خاتمے کے لیے جو بھی کام کرتے ہیں اس کی تصویر اور دیگر تفصیلات اسی وقت اس فون کے ذریعے ہمارے مرکزی دفتر میں بھجوا دیتے ہیں اور یہ ساری معلومات اسی وقت تمام متعلقہ حکام تک پہنچ جاتی ہے۔

’مثال کے طور پر لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے دیکھنا ہے کہ آج کس کارکن نے کیا کام کیا ہے اور کہاں کام کیا ہے اور کس قسم کا کام ہوا ہے، چاہے وہ سپرے ہے یا لاروا کی تلفی ہے یا کچھ اور، وہ اپنے دفتر میں بیٹھے بیٹھے صرف ایک بٹن دبا کر ساری معلومات تک پہنچ سکتا ہے۔‘

مدیحہ خان کے مطابق اس ایپ کا بنیادی مقصد انسداد ڈینگی مہم میں شامل اہلکاروں کے کام پر نظر رکھنا ہے لیکن اس سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تجزیہ بھی فیصلہ سازی کے لیے بہت اہم ہے۔

ڈاکٹر عمر سیف کے مطابق پچھلے تین برس کے دوران ڈینگی کے خاتمے کے لیے جو بھی کام کیا گیا ہے اس کی بنیاد یہی موبائل فون ایپ بنی ہے۔