’حلقہ این اے 122 میں ایاز صادق کامیاب‘، مسلم لیگ ن کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہAFP
سرکاری ٹی وی چینل ’پی ٹی وی‘ کے مطابق غیر حتمی اور غیر سرکاری طور پر حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق لاہور کے حلقہ این اے 122 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ایاز صادق کو پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار علیم خان پر برتری حاصل ہوئی ہے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اوکاڑہ سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 144 کے ضمنی انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار ریاض الحق کامیاب رہے جبکہ لاہور کے ہی ایک اور صوبائی حلقے پی پی 147 میں پی ٹی آئی کے شعیب صدیقی کو مسلم لیگ ن کے محسن لطیف پر برتری حاصل ہے۔
<link type="page"><caption> ’شیر آ نہیں رہا، شیر آ گیا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151011_byelections_social_media_sh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> لاہور میں انتخابی معرکہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2015/10/151011_byelections_lahore_pics_sh.shtml" platform="highweb"/></link>
عام انتخابات 2013 میں قومی اسمبلی کے اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صادق کامیاب ہوئے تھے لیکن تحریک انصاف کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کے بعد الیکشن ٹرائبیونل نے نتائج کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کروانے کا فیصلہ دیا تھا۔
غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج موصول ہونے کے بعد اتوار کی شب گئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیا ہے تاہم انھوں نے انتخابات پر تحفظات کا بھی اظہار کیا۔
پی ٹی آئی رہنما جہانگیر خان ترین کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات میں ن لیگ نے مقابلہ ریاستی مشینری کا استعمال کرتے ہوئے کیا ہے جس پر انھیں تحفظات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے صوبائی اسمبلی کے نشست پر کامیابی حاصل کی ہے جس سے ان کے حوصلے بڑھے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حلقہ این اے 122 کے امیدوار علیم خان نے انتخابات میں شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کو کم ووٹ ملے ہیں جسے وہ اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔
چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ اب ان کی جماعت کی نظریں بلدیاتی انتخابات پر ہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے جانب سے ایاز صادق کی کامیابی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور مقامی ٹی وی چینلز پر لاہور کے مختلف علاقوں میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی جانب سے جشن منانے کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مسلم لیگ ن کے امیدوار ایاز صادق نے لاہور میں کارکنوں اور حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا اب عمران خان کو دھرنوں کی سیاست ترک کے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
انھوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جیت کا جشن اس دن منایا جائے گا جس دن عمران خان ان کے ساتھ مل کر ملک کے استحکام کے لیے کام کرنے کا فیصلہ کریں گے۔
مریم نواز شریف نے بھی اپنے ٹویٹر پیغام میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ایاز صادق کی فتح کا دعویٰ کیا ہے۔
قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر ضمنی انتخابات کے تحت اتوار کو پولنگ کا عمل دن بھر جاری رہا تاہم پولنگ سٹیشنز پر موجود بعض پریزائڈنگ افسران کا کہنا تھا کہ ووٹرز کا ٹرن آؤٹ توقع سے کافی کم رہا۔
بعض پولنگ سٹیشنز سے پاکستان تحریک انصاف اور ن لیگ کے کاکنوں کے درمیان تصادم کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں جس کے بعد پولیس نے کچھ گرفتاریاں بھی کی ہیں۔
ضمنی انتخابات کے انعقاد کے لیے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ حساس قرار دیے جانے والے پولنگ سٹیشنز پر پولیس کے ساتھ ساتھ فوج اور ریجنرز بھی تعینات ہیں۔

پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولنگ کے آغاز پر پولنگ سٹیشنز پر ووٹروں کا رش کم تھا لیکن جوں جوں پولنگ کا وقت کم ہوتا گیا پولنگ سٹیشنز پر رش بڑھتا گیا۔
انتخابات کے دوران علاقے میں گہماگہمی رہی اور پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے رہنما مختلف پولنگ سٹیشنز کا دورہ کرتے رہے۔
کسی بھی طرح کے نامناسب حالات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ پولنگ سٹیشنز پر واک تھرو گیٹ نصب ہیں جبکہ پولیس اور رینجرز کے ساتھ ساتھ فوج بھی تعینات رہے۔
اوکاڑہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 144 میں پانچ امیدوار مدمقابل ہیں جن میں مسلم لیگ ن کے علی عارف چوہدری اور پاکستان تحریک انصاف کے محمد اشرف خان سوہنا شامل تھے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد تقریباً تین لاکھ 16 ہزار ہے اور 210 پولنگ سٹیشنوں میں سے 25 کو حساس قرار دیا گیا تھا۔
لاہور ہی سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 147 لاہور میں نمایاں امیدواروں میں پاکستان مسلم لیگ ن کے محسن لطیف ، تحریک انصاف کے محمد شعیب صدیقی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے افتخار شاہد ایڈووکیٹ شامل تھے۔







