لاہور کے حلقہ این 122 کے ضمنی انتخاب کی مہم جاری

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عدیل اکرم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں 11 اکتوبر کو این اے 122 میں ہونے والے ضمنی انتخاب نے تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کے مابین ایک بڑے معرکے کی شکل اختیار کر لی ہے اور دونوں جماعتیں اس الیکشن میں فتح کو اپنی دور رس کامیابی کی ضمانت سمجھ رہی ہیں۔
ضمنی انتخاب پاکستانی سیاست میں کوئی نئی چیز نہیں ہے لیکن موجودہ انتخاب میں دونوں فریقین اپنی کامیابی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔
چونکہ 11 اکتوبر کو ہی لودھراں کے حلقہ این اے 154 کا ضمنی انتخاب ملتوی ہو گیا ہے اِس لیے دونوں جماعتوں کے لیڈروں اور کارکنوں کی تمام تر توجہ این اے 122 پر مرکوز ہو گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، چوہدری سرور، شفقت محمود، علیم خان جبکہ نون لیگ کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، طلال چوہدری، ماروی میمن پوری سرگرمی سے حلقے کے عوامی اجتماعات میں خطاب کر رہے ہیں اور ریلیاں نکال رہے ہیں۔
واضح رہے کہ این اے اُن چار حلقوں میں سے ایک ہے جن کے نتائج کی دوبارہ پڑتال کے لیے عمران خان روز اول سے مطالبہ کرتے رہے ہیں اور اِس حلقے کی اہمیت اِس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ یہاں سے جیتنے والے امیدوار سردار ایاز صادق کے انتخابات میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو ہرا کر سپیکر قومی اسمبلی بنے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اتوار کو تحریک انصاف کا جلسہ سمن آباد کے مشہور ڈونگی گراؤنڈ میں منعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اُن کا مقابلہ مسلم لیگ نون سے نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہے۔
عمران خان نے کہا کہ مسلم لیگ نون نے ایک دفعہ پھر دھاندلی کا منصوبہ بنا لیا ہے لیکن اِس بار تحریک انصاف دھاندلی کو روکنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسلم لیگ نون نے بھی لاہور کے علاقے سمن آباد میں جلسہ منعقد کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عمران خان کی سیاست نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے اچھا ہوتا اگر عمران خان سیاست کی بجائے کرکٹ کی بہتری کے لیے کام کرتے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے کہا کہ وہ پہلے بھی اِس حلقے سے دو بار عمران خان کو شکست دے چکے ہیں اور اب دوبارہ اُن کو شکست دیں گے۔







