ایم کیو ایم کا اسمبلیوں سے استعفے واپس لینے کا اعلان

ایم کیو ایم کے سیکرٹیریٹ کے مطابق اُن کی جماعت آئندہ ہفتے سے مرحلہ وار استعفے واپس لے لے گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایم کیو ایم کے سیکرٹیریٹ کے مطابق اُن کی جماعت آئندہ ہفتے سے مرحلہ وار استعفے واپس لے لے گی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

حزب مخالف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

اس بات کا اعلان ایم کیو کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے جمعے کے روز وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔

ایم کیو ایم کے سیکرٹیریٹ کے مطابق اُن کی جماعت آئندہ ہفتے سے مرحلہ وار استعفے واپس لے لے گی۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں جاری آپریشن کے دوران مبینہ طور پر اُن کے کارکنوں کو اغوا اور ماورائے عدالت قتل کرنے کے خلاف 12 اگست کو سینیٹ، قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی سے استعفے دے دیے تھے۔

چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے ایم کیو ایم کے آٹھ سینیٹر کے استعفی قبول نہیں کیے اور اس میں اُنھوں نے رولنگ دی کہ چونکہ یہ استعفے احتجاج میں دیے گئے ہیں اس لیے اُنھیں قبول نہیں کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ کراچی آپریشن کےدوران ایم کیو ایم یا کسی بھی جماعت کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو 90 روز میں کسی بھی جماعت یا فرد کے تحفظات کو دور کرے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ اگلے پانچ روز میں اس کمیٹی کے ارکان کے ناموں کا اعلان کر دیا جائے گا جبکہ سیکرٹری داخلہ اس کمیٹی میں شامل ہوں گے۔

وزیر خزانہ نے یہ نہیں بتایا کہ اس کمیٹی کے قیام سے متعلق سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لیا گیا ہے یا نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی رینجرز کی طرف سے اختیارات سے تجاوز کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ حکومتی کمیٹی کے ساتھ الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی اُٹھانے اور ایم کیو ایم کے فلاحی اداروں پر پابندی اُٹھانے کے بارے میں بھی بات چیت ہوتی رہے گی۔

ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کرنے کی کوئی بھی تجویز ابھی تک زیر غور نہیں ہے۔