’ایم کیو ایم استعفوں پر نظر ثانی کے لیے تیار‘

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اسمبلیوں سے استعفوں کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے تیار ہوگئی ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق اسلام آباد میں ایم کیو ایم اور حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے فضل الرحمن نے کہا کہ وزیر اعظم بھی کراچی آپریشن کے بارے ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کے لیے کمیٹی کے قیام پر رضا مند ہوگئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی شکایات دور کرنے کے لیے کراچی آپریشن کے حوالے سے کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا جو تمام فریقین پر مشتمل ہوگی اور اس کے سربراہ وزیراعظم ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے استعفوں پر نظرثانی کی یقین دہانی کرائی جبکہ حکومت نے ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کا یقین دلایا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستارنے کہا کہ ان کی جماعت کراچی آپریشن کے خلاف نہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ حکومت اس کو شفاف بنانے کے لیے اقدامات کرے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے کئی کارکنان نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہوئے۔
میڈیا سے بات چیت میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت کراچی آپریشن آئینی حدود میں رہ کرنا چاہتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل پیر کو اسلام آباد میں کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں جو لوگ فرقہ وارانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائےگا اور نفرت انگیز مواد پھیلانے، عسکریت پسندی کی ترغیب دینے والے اور لوگوں کو دہشت گردی پر اکسانے والے افراد کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا ’انسانیت اور عام لوگوں کی زندگی سے کھیلنے والے دہشت گرد ناقابل معافی جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ایسے افراد کو معاف نہیں کیا جائے گا۔‘
نواز شریف کے مطابق کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن تمام فریقوں کی رضامندی کے ساتھ شروع کیا گیا تھا اور اس آپریشن کے اثرات تمام لوگوں کے سامنے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے لوگ امن کے خواہش مند ہیں اور حکومت شہر میں امن کی بحالی کے معاملے میں کسی سیاسی مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہو گی۔







