’فضل الرحمان کی ثالثی پر اعتماد ہے، بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے‘

مولانا فضل الرحمان کے مطابق رشید گوڈیل پر حملہ بات چیت کے سارے عمل کو سبوتاژ کرنے کی بڑی بزدلانہ کوشش ہے
،تصویر کا کیپشنمولانا فضل الرحمان کے مطابق رشید گوڈیل پر حملہ بات چیت کے سارے عمل کو سبوتاژ کرنے کی بڑی بزدلانہ کوشش ہے
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کی اہم سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان استعفوں کے معاملے پر جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا ہے۔

فریقین نے بات چیت کے سلسلے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ اگر اس کے تحفظات دور کیے جائیں تو معاملہ حل ہو سکتا ہے۔

ایم کیو ایم کے ارکانِ پارلیمان کراچی میں جاری آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے گذشتہ بدھ کو مستعفی ہوگئے تھے۔

قومی اسمبلی کے سپیکر نے تو ان استعفوں کی تصدیق کے بعد ان پر ضروری کارروائی کے احکامات دیے تھے جبکہ سندھ اسمبلی اور سینیٹ میں ابھی استعفوں کی تصدیق نہیں کی گئی۔

تاہم اس کے اگلے ہی دن وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں منعقدہ ایک مشاورتی اجلاس میں استعفے قبول نہ کرنے اور اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس کے بعد مولانا فضل الرحمان کو ایم کیو ایم سے بات چیت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور اس سلسلے میں وہ منگل کی صبح مولانا فضل الرحمان کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پہنچے جہاں ان کا بھرپور استقبال کیا گیا۔

ایم کیو ایم سے مذاکرات کے لیے وفاقی وزیر ہاؤسنگ اکرم درانی اور رکن قومی اسمبلی مولانا امیر زمان بھی مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ تھے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم نے مولانا فضل الرحمن ایک ثالث کے طور پر اعتماد کیا ہے کیونکہ وہ متحدہ کے پارلیمان اور سندھ اسمبلی کے ارکان کے استعفے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران کو ملک میں سیاسی استحکام کی خاطر حل کروانے لیے آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مولانا فضل الرحمن نے یہاں آ کے ہمیں منایا ہے اور ہم سےکہا ہے کہ ہم پارلیمان میں رہ کر اپنا کردار ادا کریں اور ملکی استحکام اور سیاسی اور جمہوری عمل کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔‘

فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم نے مولانا فضل الرحمن ایک ثالث کے طور پر اعتماد کیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنفاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم نے مولانا فضل الرحمن ایک ثالث کے طور پر اعتماد کیا ہے

فاروق ستار کے مطابق ’مذاکرات میں جو بات چیت ہوئی ہے اس سے ہمیں امید ہے کہ ہم اس سلسلے کو آگے بڑھا سکتے ہیں اور باقی باتیں حکومت کے عمائدین کے ساتھ بات چیت میں طے ہوں گی اور اگر وجوہات کو دور کیا جائے گا تو مجھے نہیں لگتا کہ اس بحران کو ہم حل نہ کر سکیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی مولانا فضل الرحمان سے بات کی ہے اور ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا کہ ’انشاء اللہ اسی مثبت رویے کے ساتھ ہم اسلام آباد میں مزید بات چیت آگے بڑھائیں گے اور ہمارے معاشرے کا رواج بھی یہی ہے کہ اگر کوئی ناراض ہوجاتا ہے تو اس کے گھر جانا ہوتا ہے۔‘

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ رینجرز کی قیادت میں جاری آپریشن میں اسے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر غیراعلانیہ پابندی لگادی گئی ہے اور اس کے 40 سے زیادہ کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل اور ڈیڑھ سو سے زیادہ کارکنوں کو لاپتہ کر دیا گیا ہے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے ایم کیو ایم کے استعفے واپس کروانے کی کوششوں کے برعکس حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے ہی ایک سینیئر رہنما ظفر علی شاہ نے <link type="page"><caption> ایم کیو ایم کی پارلیمان میں واپسی کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150817_mqm_resignation_petition_zz" platform="highweb"/></link>دائر کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے استعفے منظور نہ کرنے، ان کو منانے اور ان کو روکنے کے سلسلے میں کی جانے والی سرگرمیاں غیر آئینی اور ملکی آئین کو شکست دینے کے مترادف ہیں۔