ایم کیو ایم کے استعفوں کا سیاسی حل تلاش کرنے کا فیصلہ

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی وفاقی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے استعفے قبول نہ کرنے اور اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس بات کا فیصلہ وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا۔
اس مشاورتی اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید، منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔
اس مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی کو کسی طور پر بھی ملک کے دیگر حصوں سے الگ نہیں کیا جائے گا اور وہاں کا مینڈیٹ رکھنے والی کسی بھی جماعت کو سیاسی دھارے سے الگ نہیں کیا جائے گا۔
حکومت ایم کیو ایم کے کراچی سے متعلق تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے گی، تاہم کراچی آپریشن کو کسی طور پر بھی بند نہیں کیا جائےگا۔
وزیر اعظم نے ایم کیو ایم کے استعفوں سے متعلق پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو بھی مشاورت کے لیے طلب کر لیا ہے۔
پارلیمان میں موجود متعدد سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے استعفے قبول کرنے میں جلد بازی نہ کی جائے اور یہ معاملہ بھی اسی طرح پارلیمان میں ہی حل کر لیا جائے جس طرح پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کے استعفوں کا معاملہ حل کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر حکومت کراچی آپریشن سے متعلق ان کے تحفظات دور کردے تو ان کی جماعت کے ارکان پارلیمان اور سندھ اسمبلی سے استعفے واپس لینے کے لیے تیار ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت کے ارکان نے سنہ 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف استعفے دیے تھے جبکہ ایم کیو ایم ٹارگٹ کلرز کو بچانے کے لیے استعفے دے رہی ہے۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے استعفے قبول کرنے میں جلدبازی سے کام نہ لیا جائے اور اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار سے رابطہ کیا ہے اور اُن سے کہا ہے کہ ان کے استعفے ابھی قبول نہیں کیےگئے اور اُن کے استعفے واپس لینے کا راستہ ابھی بھی موجود ہے۔
ادھر حکومت نے حکمراں اتحاد میں شامل جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے کہا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے استعفوں سے متعلق استعفے واپس لینے کے لیے ان سے رابطہ کریں۔
پارلیمان ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ اُن کی نظر میں جب استعفے سپیکر کو بھجوا دیے جائیں تو پھر اُن پر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس ضمن میں قانونی ماہرین کا اجلاس طلب کیا ہے اور اگر استعفے واپس لینے کے معاملے میں کوئی آئینی راستہ موجود ہوا تو پھر اس کے بعد ہی ایم کیو ایم کی قیادت سے بات کریں گے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کے استعفوں کے بارے میں بھی اُن کی جماعت کا یہی موقف تھا۔







