’مانیٹرنگ کمیٹی بنا دی جاتی تو یہ نوبت نہ آتی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ کراچی میں رینجرز کے آپریشن کی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ کمیٹی اور ایم کیو ایم کے کارکنان کے ماروائے عدالت قتل اور جبری گمشدیوں پر عدالتی کمیشن تشکیل دے دیا جاتا تو حالات اس نہج پر نہیں پہنچتے۔
قومی اسمبلی، سینیٹ اور سندھ اسمبلی سے اپنی جماعت کے اراکین کے استعفوں کے بعد بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کی آئندہ حکمت عملی، ضمنی انتخابات میں حصہ لینے یا لینے کا فیصلہ آنے والے دنوں میں کیا جائے گا۔
ملک کے منتخب ایوان سے استعفے دینے کے فیصلے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ گذشتہ کئی دنوں کی صورت حال کے پیش نظر طویل غور و خوض کے بعد کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ آئندہ کی حکمت عملی بھی سوچ بچار کے بعد بنائی جائے گی۔
کراچی آپریشن کی نگرانی کے لیے کمیٹی اور ماروائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے دعوؤں کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ آئینی اور قانونی مطالبات تھے جن کے پورے نہ کیے جانے پر ان کی جماعت نے استعفوں کا راستہ اختیار کیا ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ وہ کئی ماہ سے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی کوششیں کر رہے تھے اور 11 مارچ کے بعد وزیر اعظم نے ملاقات کا وقت نہیں دیا۔
کراچی آپریشن کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے 40 سے زیادہ کارکنان کو مبینہ طور پر زیر حراست قتل کیا گیا جبکہ 170 سے زیادہ لاپتہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کراچی میں ایم کیو ایم حقیقی اور دوسری جماعتوں کو مسلط کیا جا رہا ہے اور لیاقت آباد، ملیر، شاہ فیصل، لانڈھی اور کورنگی کو ’نو گو‘ ایریا بنا دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فاروق ستار کے بقول ایم کیو ایم کی سیاسی اور فلاحی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا گیا ہے اور جماعت عضو معطل بن گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر ارباب اختیار کو الطاف حسین کی آواز پسند نہیں ہے تو اس کو بند کرنے کے آئینی اور قانونی طریقے اختیار کریں۔
انھوں یاد دلایا کہ وزیر داخلہ قومی اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہو کر یہ کہہ چکے ہیں کہ مسئلہ الطاف حسین کی تقریروں کا ہے۔







