متحدہ سندھ کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ سے بھی مستعفی

،تصویر کا ذریعہGetty

    • مصنف, شہزاد ملک اور احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان

پاکستان کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ اسمبلی میں اپنے اراکین کے استعفے جمع کروانے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی اپنے استعفے پیش کر دیے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین ِ قومی اسمبلی نے بدھ کو سپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں جا کر یہ استعفے جمع کروائے۔

سینیٹ میں ایم کیو ایم کے سینیٹرز نے اپنے استعفے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کو پیش کیے ہیں جبکہ اس سے قبل سندھ اسمبلی میں متحدہ کے 51 اراکین کے استعفے سپیکر صوبائی اسمبلی آغا سراج درانی کو پیش کیے گئے تھے۔

کراچی میں متحدہ کے 41 اراکینِ صوبائی اسمبلی نے پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن کی قیادت میں 51 اراکین کے ہاتھ سے لکھے ہوئے استعفے سپیکر کو ان کے دفتر میں پیش کیے۔

ایم کیو ایم کے ذرائع کے مطابق ان کے دس ارکانِ صوبائی اسمبلی ملک سے باہر ہیں اور اسی ہی وجہ سے استعفے پیش کرتے وقت وہ موجود نہیں تھے۔

سندھ اسمبلی کے 51 اراکین کے علاوہ قومی اسمبلی میں متحدہ کے اراکین کی تعداد 24 ہے جن میں چار خواتین اور ایک اقلیتی رکن شامل ہے جبکہ سینیٹ میں ایم کیو ایم کے آٹھ ارکان موجود ہیں۔

قبل ازیں پارٹی کے لندن دفتر میں موجود رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفٰی عزیز آبادی نے بی بی سی اردو سروس کو فون پر اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں موجود ایم کیو ایم کے تمام اراکین بدھ کو اپنے استعفے پیش کریں گے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے منتخب ایوانوں میں موجود اپنے نمائندوں کے استعفے پیش کرنے کا فیصلہ کراچی میں جاری رینجرز کے آپریش کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ لندن میں رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں طویل غور و خوض کے بعد کیا گیا۔

اسلام آباد میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے قومی اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر ریحان ہاشمی نے کہا کہ جب کراچی اور حیدر آباد جیسے بڑے شہروں کی نمائندگی کرنے والی جماعت اپنے ووٹر کو تحفظ نہیں دے سکتی تو اُنھیں قانون ساز اداروں میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن متحدہ قومی موومنٹ کی درخواست پر ہی شروع کیا گیا لیکن اُنھیں کیا معلوم تھاکہ ان کی جماعت کے کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا جائے گا اور اُن کی لاشیں محتلف علاقوں سے برآمد ہوں گی۔

کراچی میں ایم کیو ایم کے رہنما اور رابطہ کمیٹی کے رکن امین الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ سینیٹ کے آٹھ، قومی اسمبلی کے 24 اور سندھ اسمبلی کے 51 ارکان مستعفی ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر غیراعلانیہ پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ایم کیو ایم کے دو درجن سے زیادہ کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے اور 150 کے لگ بھگ کارکن لاپتہ ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سمیت تمام فورمز پر درخواستیں دی ہیں مگر کہیں بھی شنوائی نہیں ہو رہی اسی لیے ایم کیو ایم نے مجبور ہو کر یہ فیصلہ کیا ہے۔

امین الحق نے کہا کہ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ منظم طریقے سے اس کے خلاف میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے اور پارٹی کے قائد الطاف حسین کی تقاریر پر غیراعلانیہ پابندی لگادی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ استعفوں کے فیصلے پر وفاقی یا صوبائی حکومت کی جانب سے ان کی جماعت سے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

’یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت اور ارباب اختیار چاہتے ہیں کہ شہری سندھ میں جہاں ایم کیو ایم اردو بولنے والوں کی نمائندگی کرتی ہے وہاں زبردستی کسی اور کو یہ مینڈیٹ دلایا جائے۔‘

متحدہ قومی موومنٹ پچھلے کئی ماہ سے کراچی میں رینجرز کی کارروائیوں کے خلاف بیانات اور مظاہروں کے ذریعے احتجاج کرتی رہی ہے جبکہ پارٹی کے قائد الطاف حسین بھی رینجرز پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں۔

اس تنقید پر پارٹی کی مقامی قیادت سمیت ان کے خلاف ملک بھر میں سو سے زیادہ مقدمے بنے اور اب ایم کیو ایم کے استعفوں کے فیصلے نے پہلی مرتبہ ملکی سطح پر سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔