’متحدہ سے بات کرنا چاہتے ہیں لیکن تقاریر معاملات بگاڑ رہی ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومت متحدہ قومی موومنٹ سے بات کرنا چاہتی ہے لیکن لندن سے الطاف حسین کی تقاریر سے معاملات مزید خراب ہو رہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی جانب نکتہ اعتراض کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ حکومت بات پر یقین رکھتی ہے لیکن الطاف حسین کی تقاریر سے ’چنگاری سے آگ لگاتی ہیں۔‘
متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں نکتۂ اعتراض پر کہا تھا کہ رینجرز، پاکستانی فوج، وفاقی حکومت کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے بجائے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کر رہی ہے۔
جس کے جواب میں وزیر داخلہ نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ کراچی میں آپریشن متحدہ قومی موومنٹ یا کسی اور سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہے بلکہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے اور کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف رینجرز کا آپریشن تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے شروع کیا گیا تھا۔
چوہدری نثار نے کہا کہ گذشتہ کچھ برسوں کے مقابلے میں کراچی میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔
چوہدری نثار نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے تحفظات کے حوالے سے انھوں نے خفیہ اداروں کے سربراہان اور ڈی جی رینجرز سے ملاقات کی تھی لیکن ’الطاف حسین کی وجہ سے معاملات خراب ہوئے ہیں اور حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ انھیں بہتر میں کچھ وقت تو لگے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار سے تجویز دی کہ وہ الطاف حسین کو سمجھائیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ رینجرز کے چھاپے کے دوران ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سے جو کچھ بھی برامد ہوا ہے ایم کیو ایم کو اُس پر جواب دینا ہو گا۔
انھوں نے واضح کیا کہ کراچی میں ’کسی کو لاپتہ کرنا حکومتی پالیسی کا حصہ نہیں ہے اور ڈی جی رینجرز سے کہا گیا ہے کہ ایسی چیزیں نہ ہوں۔‘
چوہدری نثار نے بتایا کہ وزیرداخلہ کی مداخلت کے بعد ایم کیو ایم کے اراکینِ پارلیمنٹ کی گرفتاریاں روک دی گئیں۔
چوہدری نثار نے کہا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی میں ہلاک ہونے والے کارکنوں کے بارے میں دیے گئے اعداد وشمار ’غلط‘ ہیں۔
دوسری جانب ایم کیو ایم ارکان نے کراچی میں کارکنوں کی مبینہ ہلاکتوں پر ایوان سے واک آوٹ بھی کیا۔







