ایم کیو ایم نے مقدمات کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا

رینجرز کے ترجمان نے الطاف حسین کا نام لیے بغیر ’نفرت انگیز تقاریر‘ کا انتظام کرنے پر آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریوں کا بھی اعلان کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرینجرز کے ترجمان نے الطاف حسین کا نام لیے بغیر ’نفرت انگیز تقاریر‘ کا انتظام کرنے پر آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریوں کا بھی اعلان کیا تھا
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے قائد الطاف حسین کی حالیہ تقاریر کو بنیاد بنا کے پارٹی قیادت کے خلاف درج کیے گئے غداری اور ملک کے خلاف مجرمانہ سازش کے مقدمات کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے بدھ کو ایسے مقدموں کے خلاف پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر رؤف صدیقی کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سندھ پولیس سے ان مقدمات کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

لندن میں مقیم الطاف حسین اور پاکستان میں ان کی جماعت بیشتر اہم رہنماؤں کے خلاف پچھلے ہفتے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سمیت ملک بھر میں سو سے زیادہ مقدمے درج کیے گئے تھے۔

یہ مقدمے عام شہریوں کی درخواستوں پر درج کیے گئے ہیں اور ان میں الطاف حسین کی 12 جولائی کی تقریر کو بنیاد بنا کر کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز پر تنقید کی وجہ سے ان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

ان مقدموں میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں پر مجرمانہ سازش، غداری، پاکستان کے خلاف جنگ کرنے اور دہشت گردی جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر داخلہ رؤف صدیقی بھی ملزمان میں شامل ہیں۔ وہ پارٹی کے واحد رہنما ہیں جنہوں نے ان مقدموں کو عدالت میں چیلنج کیا ہے اور عبوری ضمانتیں حاصل کی ہیں۔

عدالت نے الطاف حسین کی تقریر سننے اور اس کی تائید کرنے کے الزام میں درج کرائے گئے مزید چھ مقدموں میں رؤف صدیقی کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ دس دن کے اندر متعلقہ عدالتوں سے رجوع کریں۔

ان کے وکیل شوکت حیات ایڈووکیٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ رؤف صدیقی نے کراچی کے سُکھّن تھانے پر درج ہونے والے مقدمے میں 16 جولائی کو ہائی کورٹ کے سامنے خود کو پیش کر دیا تھا جس میں عدالت نے انہیں 10 دن کی حفاظتی ضمانت دے دی تھی کہ وہ ٹرائل کورٹ میں اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے درخواست دیں۔

ان کے بقول بعد میں اسی الزام کے تحت مزید مقدموں کا پتہ چلا تو ان کے خلاف ہائی کورٹ میں بدھ کو درخواست دائر کی گئی ہے۔

رینجرز نے الطاف حسین کی اس تقریر کے بعد 17 جولائی کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مار کر پارٹی کے دو رہنماؤں قمر منصور اور کیف الوری کو گرفتار کر لیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرینجرز نے الطاف حسین کی اس تقریر کے بعد 17 جولائی کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مار کر پارٹی کے دو رہنماؤں قمر منصور اور کیف الوری کو گرفتار کر لیا تھا

انہوں نے بتایا کہ ’ہمارا مؤقف یہ ہے کہ یہ تمام مقدمے ایک ہی واقعے کی ہیں اور ایک واقعے کی ایک سے زیادہ ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتیں، یہ بدنیتی پر مبنی ہیں اور اس لیے ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ آئی جی پولیس سندھ اور ڈی آئی جی پولیس کراچی سے تمام ایف آئی آرز کی کاپیاں منگوا کر کورٹ کے ریکارڈ پر لائی جائیں۔‘

شوکت حیات نے کہا کہ انہوں نے عدالت سے ان تمام ایف آئی آرز کو ختم کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔

’میرا کہنا یہ ہے کہ محض کسی کی تقریر سننا کوئی جرم نہیں ہے اور اس سے مجرمانہ سازش یا بغاوت کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اگر یہ تقریر بے شمار لوگوں نے سنا ہے تو سننے پر پابندی نہیں ہے۔ ہمارے قانون کے اندر سننا جرم نہیں ہے۔‘

الطاف حسین نے 12 جولائی کو کراچی میں کارکنان کے ہنگامی اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب میں کہا تھا کہ ’ہم فوج کے نہیں بلکہ فوج میں موجود گندے انڈوں کے خلاف ہیں۔جنرل راحیل شریف خدارا پاکستان کو بچا لیں اورفوج سے ان گندے انڈوں کو نکالیں جنھوں نے سویلینز کی طرح کروڑوں اربوں روپے کی کرپشن کی ہے۔‘

انہوں نے اپنی اسی تقریر میں ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بلال اکبر پر ایم کیو ایم کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے، کارکنوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ’وہ وائسرائے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘

الطاف حسین نے الزام لگایا تھا کہ ’میجر جنرل بلال اکبر نے اپنے حلف کو توڑا ہے اس لیے وہ استعفیٰ دیدیں اور دو سال انتظارکرنے کے بعد اپنی سیاسی جماعت بنا لیں۔‘

رینجرز نے ان کی اس تقریر کے بعد 17 جولائی کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مار کر پارٹی کے دو رہنماؤں قمر منصور اور کیف الوری کو گرفتار کر لیا تھا اور کہا تھا کہ ’یہ گرفتاریاں کراچی کے امن کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کا انتظام کرنے اور اس کے لیے سہولت فراہم کرنے پر کی گئی ہیں۔`

رینجرز کے ترجمان نے الطاف حسین کا نام لیے بغیر ’نفرت انگیز تقاریر‘ کا انتظام کرنے پر آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریوں کا بھی اعلان کیا تھا۔