چوہدری نثار اور خواجہ آصف کے خلاف ایم کیو ایم کا احتجاجی مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی پریس کلب کے باہر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور خواجہ آصف کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے بیانات کو اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آپریشن دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لیے ہو تو ایم کیو ایم اس کی حامی ہے ، لیکن آپریشن صرف جرائم پیشہ عناصر کے لیے ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر فاروق نے چوہدری نثار اور خواجہ آصف پر تنقید کی اور کہا کہ جب کراچی کے عوام بجلی اور پانی کے لیےمر رہے تھے اس وقت خواجہ آصف کہاں تھے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے کئی شہروں میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف فوجداری مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ان مقدمات میں ان پر لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے اور فسادات کی سازش کرنے کے الزامات عائد کیےگئے ہیں۔
ایم کیو ایم کے احتجاج کے دوران پریس کلب کے آس پاس رینجرز تعینات رہے جبکہ احتجاج کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کو رینجرز اہلکاروں نے روکا اور بعد میں جانے کی اجازت دے دی۔
اس سے قبل فوارہ چوک پر ایم کیو ایم کے شعبے خواتین اور اہلکاروں میں تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔
ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے دو روز قبل لندن سے ٹیلیفون پر خطاب میں پاکستان فوج اور رینجرز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے اپنا حلف توڑا ہے اور اب وہ فوجی نہیں رہے، بہتر ہے کہ وہ خود مستعفی ہوکر دو سال کا انتظار کیے بغیر اپنی سیاسی جماعت بنا کر صدر بن جائیں اور کرنل طاہر کو جنرل سیکریٹری بنا دیں۔
الطاف حسین نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک پروفیشنل فوجی افسر ہیں، اس لیے وہ منصفانہ فیصلے کریں اور جس طرح سندھ رینجرز کے ڈی جی اور دیگر افسران کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، اس کا نوٹس لیں۔
انھوں نے اپنی تقریر میں سقوطِ ڈھاکہ کا بھی حوالہ دیا تھا۔
الطاف حسین کی تقریر کے بعد سب سے زیادہ مقدمات جیکب آباد میں دائر کیے گئے ہیں۔
سٹی، ایئرپورٹ، صدر، سول لائن اور دودا پور تھانوں میں درج ان مقدمات کے مدعیان میں سنی تحریک، تحریک اہل سنت، سابق صدر پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ سمیت نصف درجن کے قریب شہری بھی شامل ہیں۔
تحریک اہل سنت کے رہنما عبدالخالق نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ الطاف حسین نے اپنی تقریر میں پاکستان کی سالمیت اور سکیورٹی اداروں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی ہے اور ان کی اس تقریر کا مقصد سندھ، خصوصاً کراچی میں انتشار پیدا کرنا تھا۔
جیکب آْباد کے ان شہریوں نے تھانوں کے سامنے دھرنے بھی دیے اور اس دوران پاکستان زندہ باد اور فوج زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔
لاڑکانہ کے مارکیٹ تھانے میں الطاف حسین کے خلاف ایک شہری ارسلان حبیب برڑو اور خیرپور کے فیض گنج تھانے میں آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما امداد چانگ کی مدعیت میں مقدمے درج کیے گئے جن میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر کے وطن لایا جائے۔
اس کے علاوہ نوابشاہ، نوشہرو فیروز، عمرکوٹ، دادو اور مٹیاری کے اضلاع کے پانچ سے زائد تھانوں میں الطاف حسین کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کے الزام کے تحت مقدمات دائر ہوئے ہیں، جبکہ ٹنڈو الہ یار میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ بھی شامل کی گئی ہے اور ان پر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
الطاف حسین نے ان مقدمات پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے ان کے خلاف مقدمات درج کرا دیے ہیں اور ان پر جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں، حالانکہ انھوں نے ملک کے خلاف نہیں بلکہ ظلم و جبر کے خلاف بات کی تھی۔
الطاف حسین نے کارکنوں سے کہا ہے کہ جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر انھیں جیل بھیجا جا سکتا ہے، ان کی تقاریر پر پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے یا مافیاز کے ذریعے قتل کرایا جا سکتا ہے، لیکن وہ تحریک کو جاری رکھیں۔
ایم کیو ایم کے قائد کا کہنا تھا کہ انھیں برطانیہ سے نکالنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ، اس کے اتحادیوں اور نام نہاد جمہوری حکومتوں نے ان کے خلاف زہریلا مواد برطانوی حکومت کو فراہم کیا اور مستقل کرتے رہے لیکن وہ برطانوی حکومت کو بہکانے اور ورغلانے میں ناکام ہوئے کیونکہ انھوں نے برطانیہ کا کوئی قانون نہیں توڑا۔
ان کے مطابق: ’تمام تر سازشوں میں ناکامی کے بعد ایک نئی سازش کے تحت ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرایا گیا تاکہ اس کا الزام ایم کیوایم اور الطاف حسین پر عائد کیا جا سکے اور الطاف حسین کو جیل یا سزا دلائی جا سکے لیکن یہ تمام سازشیں ناکام ثابت ہوئیں اور ان کا ساتھیوں سے رابطہ برقرار رہا۔‘







